تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 356
غرض ان میں یہ تو چرچا تھا کہ وہ موعود جس کی خبر دی گئی تھی آنےوالا ہے مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہم میں سے آئے گا کسی اور قوم میں سے نہیں آئے گا۔یہودی سمجھتے تھے کہ ہم میں سے آئے گا اور عیسائی سمجھتے تھے کہ ہم میں سے آئے گا اور چونکہ آنے والے کی خبریں ہر قوم میں پائی جاتی تھیں اس لئے ان کے دلوں میں یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں ان پیشگوئیوں سے کوئی اور قوم ’’ناجائز فائدہ‘‘ نہ اٹھالے۔اور چونکہ مسیحی دنیا کے بادشاہ تھے وہ سیاسی طور پر اس خیال کے تقویت پانے کو اپنے خلاف سمجھتے تھے۔اس لئے ان میں سے بعض صاحبِ اقتدار لوگوں نے یہ خیال کیا کہ بہتر ہو کہ عربوں کے شیرازہ کو بکھیر دیا جائے تاکہ نبیٔ عربی کے خیال کے ماتحت یہ ایک مرکز پر جمع نہ ہو جائیں اور مسیحیت کے لئے مشکلات پیش نہ آئیں۔چنانچہ انہی باتوں کے نتیجہ میں ابرہہ نے پہلے گرجا بنایا پھر اسے رشوتوں سے عربوں میں مقبول کرنا چاہا اور جب اس میں اسے کامیابی نہ ہوئی تو خانۂ کعبہ کو گرانے کا فیصلہ کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جو نشان دکھایا اس نے بجائے آپؐکا رستہ روکنے کے اس کو اور بھی کھلا کر دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ساتھ ہے جس کے لئے اس خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس کا مخالف ہے جو اس گھر کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ وہ اس گھر کو نہیں مٹاتا بلکہ اس مقصود پر حملہ کرتا ہے جس کے لئے اس گھر کو بنایا گیا تھا۔لطیفہ یہ ہے کہ وہی قوم جس نے اس نبی کو گرانے کی کوشش کی تھی اسی قوم کے پروں کے نیچے نبی عربی کی جماعت نے پناہ حاصل کی۔یمن حبشہ کا صوبہ تھا اور یمن کا گورنر نجاشی کے ماتحت تھا یہ نجاشی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک زندہ رہا۔اس نجاشی کی فوج کسی زمانہ میں مکہ پر حملہ آور ہوئی کہ وہ خانۂ کعبہ کو گرائے۔اس لئے آئی کہ یہ نقطۂ مرکزی نہ رہے تاکہ اگر عرب میں کوئی مدعیٔ نبوت کھڑا بھی ہو تو اسے خانۂ کعبہ سے طاقت حاصل نہ ہو۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرت دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے، مکہ میں جوان ہوئے اور مکہ میں ہی ادھیڑ عمر کو پہنچے مگر جب چالیس سال کے بعد آپؐنے نبوت کا دعویٰ فرمایا تو مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت کی اور رفتہ رفتہ یہ مخالفت اتنی ترقی کر گئی کہ دعویٰ نبوت کے پانچویں سال مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر آپ کی قوم پناہ لینے کے لئے ایک غیرملک کی طرف ہجرت کر گئی اور وہ ملک اسی نجاشی کا ملک تھا جس کے لشکر نے نبی عربی کی طاقت توڑنے کے لئے مکہ پر حملہ کیا تھا۔مکہ کے لوگوں کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے حبشہ پہنچے تاکہ نجاشی کو کہہ کر وہ ان لوگوں کو مکہ میں واپس لائیں اور ان پر اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھیں۔خدا کی قدرت ہے وہ مکہ والے جو ابرہہ کا خانۂ کعبہ پر حملہ برداشت نہ کر سکتے تھے اور جو ابرہہ سے لڑنے کی طاقت اپنے اندرنہ پاکر پہاڑوں پر چلے گئے تھے وہ ابرہہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس اس لئے جاتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت کو مارا جائے جس کے لئے خانۂ کعبہ کی