تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 355
عام چرچا شروع ہوا تو انہوں نےا پنے بچوں کا نام محمد رکھنا شروع کر دیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بائبل کی پیشگوئیوں سے یہ سمجھا گیا تھا کہ نبی ٔ عرب محمد نامی ہو گا۔پس قربِ زمانۂ نبوی میں جب عربوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ آنے والا آرہا ہے تو انہوںنے تفاؤل کے طور پر اپنے بچوں کےنام محمد رکھنے شروع کر دیئے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت یہ عام احساس پیدا ہو رہا تھا کہ نبیٔ عربی کا زمانہ قریب آگیا ہے۔پھر لوگوں کے اس عام احساس کا اس امر سے بھی پتہ لگتا ہے کہ یہودی لوگ شام کو چھوڑ کر مدینہ اور خیبر میں آبسے تھے کیونکہ ان کے اولیاء نے انہیں یہ خبر یں دے رکھی تھیں کہ اب وہ ’’نبی‘‘ ظاہر ہونے والا ہے لیکن ظاہر جنوبی علاقہ میں ہو گا(وفاء الوفاء الـجزء الاوّل صفحہ ۱۶۰) گویا وہ اس کا علاقہ مدینہ اور اس کا ماحول بتاتے تھے اور اپنی قوم کو نصیحت کرتے تھے کہ تم اس طرف کو چلے جاؤ تاکہ جب وہ نبی مبعوث ہو تو اس کی برکت سے تم عیسائیوں کے ظلموں سے بچ جاؤ۔ان میں یہ خبر تھی کہ اگر وہ اس موعود کو مان لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر دے گا بعض یہودیوں کی نسبت تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ مدینہ اور اس کے نواح میں اس لئے آکر بسے تھے کہ وہ نبی اس علاقہ میں ظاہر ہونے والا ہے اور اس سے قیاس ہوتا ہے کہ یہ عرب کی طرف ہجرت کی رَو اور مدینہ کے قریب یہود کا بستیاں بنانا الٰہی پیشگوئیوں کی وجہ سے تھا۔یہ ساری باتیں جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے بتاتی ہیں کہ عیسائیوں اور یہود دونوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار کیا جا رہا تھا قیصرِ روما نے آسمان پر ایسی علامتیں دیکھیں جن کو دیکھ کر اسے کہنا پڑا کہ نبی ٔ مختون کے ظہور کا وقت آگیا ہے۔یہودی اس لئے مدینہ میں ہجرت کر کے آئے کہ ان کے اولیاء نے یہ بتایا تھا کہ وہ نبی اس علاقہ میں ظاہر ہونےو الا ہے اور عربوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے اس لئے اپنے بچوں کانام محمد رکھنا شروع کر دیا جو پہلے نہیں ہوتا تھا کہ شاید انہی کا بچہ وہ خوش قسمت بچہ ہو جس نے دنیا کا نجات دہندہ بننا ہے۔یہ تینوں باتیں بتاتی ہیں کہ عربوں میں بھی یہ احساس تھا کہ اس نبی کے پیدا ہونے کا وقت آگیا ہے۔یہود میں بھی یہ احساس تھا کہ اس نبی کے پیدا ہونے کا وقت آگیا ہے اور عیسائیوں میں بھی یہ احساس تھا کہ اس نبی کے پیدا ہونے کا وقت آگیا ہے۔لیکن یہودیوں اور مسیحیوں یا یوں کہو کہ ان میں سےا کثر کا یہ خیال تھا کہ وہ ہوگا ان کی قوم میںسے گو ظاہر ہو گا عرب سے۔وہ یہ تو سمجھتے تھے کہ علامتیں بالکل ظاہر ہیں مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ نبی ہم میں سے ظاہر ہو گا کسی اور قوم میں سے نہیں ہو گا۔عرب سمجھتے تھے کہ ہم میں سے ہو گا، عیسائی سمجھتے تھے کہ ہم میں سے ہوگا، یہودی سمجھتے تھے کہ ہم میں سے ہو گا۔