تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 354

ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی موعود آنےو الا ہے اسی طرح قیصرِ روما کے قول کا یہ مطلب نہیں کہ نجومی کی طرح اس نے ستاروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ عرب کا نبی ظاہر ہونے والا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں ستاروں کے متعلق پہلی کتب میں کوئی خاص پیشگوئی ہو گی جو ان کے اولیاء نے کی ہو گی اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ثبوت ہو گی۔جب قیصر روما نے اس علامت کو ستاروں میں پورا ہوتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ نبیٔ مختون کے ظہور کا وقت اب قریب آگیا ہے۔ہماری جماعت کا یہ مشہور واقعہ ہے کہ ایک مخالف مولوی جو غالباً گجرات کا رہنے والا تھا ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے بالکل دھوکا نہ کھانا حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ مہدی کی علامت یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینہ میں گرہن لگے گا۔جب تک یہ پیشگوئی پوری نہ ہو اور سورج اور چاند کو رمضان کے مہینہ میں گرہن نہ لگے ان کے دعویٰ کو ہرگز سچا نہیں سمجھا جا سکتا۔اتفاق کی بات ہے وہ ابھی زندہ ہی تھا کہ سورج اور چاند کے گرہن کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔اس کے ہمسائے میں ایک احمدی رہتا تھا اس نے سنایا کہ جب سورج کو گرہن لگا تو اس نے گھبراہٹ میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔وہ ٹہلتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا ’’ہن لوگ گمراہ ہون گے‘‘ ’’ہن لوگ گمراہ ہون گے‘‘ یعنی اب لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔اس نے یہ نہ سمجھا کہ جب پیشگوئی پوری ہو گئی ہے تو لوگ حضرت مرزا صاحب کو مان کر ہدایت پائیں گے گمراہ نہیں ہوں گے۔عیسائی بھی ایک طرف تو یہ مانتے تھےکہ وہ تمام علامتیں پوری ہو گئی ہیں جو پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں مگر دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سن کر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اس وقت اتفاقی طور پر ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا ہے جیسے مسلمان کہتے ہیں علامتیں تو پوری ہو گئی ہیں مگر اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ ایسا اتفاق ایک جھوٹے کو ہی نصیب ہوتا ہے سچے کو نصیب نہیں ہوتا۔غرض میرے نزدیک پہلی کتابوں میں اس قسم کی پیشگوئی پائی جاتی تھی کہ فلاں ستارہ جب فلاں جگہ پر ہو گا یا فلاں علامت تمہیں ستاروں میں دکھائی دے گی تو یہ اس بات کا نشان ہو گا کہ وہ نبی جس کی خبر دی جارہی ہے عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔قیصر نے ایسی ہی کوئی علامت دیکھ کر یہ بات کہی لیکن سننےو الے چونکہ اصل حقیقت سے آگاہ نہیں تھے اس لئے جب اس نے یہ کہا کہ میں نے ستاروں میں نبیٔ مختون کی علامت دیکھ لی ہے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح نجومی ستاروں کو دیکھا کرتے ہیں اسی طرح اس نے ستاروں کو دیکھ کر کوئی بات معلوم کی ہے۔اسی طرح میں پہلے بتا چکا ہوں کہ عرب لوگ محمد نام نہیں رکھتے تھے مگر جب آنے والے موعود کے متعلق