تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 349

رہتا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اَلَمْ تَرَ مَا فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ یا کَمْ عَذَّبَ کا لفظ اس نے استعمال نہیں بلکہ اس نے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کے الفاظ استعمال کئے ہیں یعنی ہم نے کس طرح ایک ایسی تدبیر ان کو ہلاک کرنے کے لئے کی جس میں انسانی ہاتھ کا کوئی دخل نہیں تھا۔چیچک ایسی ہی مرض ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں نہیں۔بعض مرضیں بےشک ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو پھیلایا جا سکتاہے جیسے ہیضہ ہے یا ٹائیفائڈ ہے یا طاعون ہے۔گو ان کے پھیلانے میں بھی بڑی مشکلات ہوتی ہیں لیکن چیچک کے متعلق اب تک کوئی ایسا طریق معلوم نہیں ہو سکا جس سے اسے لوگوں میں پھیلایا جا سکے اور ہیضہ اور ٹائیفائڈ اور طاعون کے متعلق بھی موجودہ زمانہ میں معلوم ہوا ہے کہ یہ امراض پھیلائی جا سکتی ہیں۔(Encylopedian Britannia Under word "Cholera, typhoid, plague") اس سے پہلے ان امراض کے متعلق لوگوں کو کچھ علم نہیں تھا کہ یہ پھیلائی جا سکتی ہیں۔پس آج سے چودہ سو سال پہلے ابرہہ کے لشکر میں ایک ایسی بیماری کا پھیل جانا جو کبھی عرب میں نہ ہوئی تھی اور جس کا عربوں کو پتہ تک نہیں تھا۔اس کا علاج جاننا تو الگ رہا یقینی طور پر بتاتا ہے کہ یہ بیماری خدا نے پیدا کی تھی اسی لئے كَيْفَ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو نے دیکھا کہ تیرے رب نے کس طرح کیا۔’’تیرے رب‘‘ کے الفاظ صاف طور پر بتاتے ہیں کہ ان الفاظ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ فعل محض تیری خاطر کیا گیا تھا۔جب ماں اپنے بچہ سے کہتی ہے کہ ’’تیری ماں نے کیا کیا‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے تیری خاطر کیا کِیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر کس طرح اپنی قدرت کا نشان دکھایا۔تو بارہ ہزار کی موت نہ دیکھ بلکہ یہ دیکھ کہ کیا کوئی انسان تھا جس نے ان کو مارا۔کیا کوئی انسانی تدبیر تھی جس نے ان کا خاتمہ کیا۔جب تمام حیلے بےکار ہو گئے، جب تمام کوششیں جاتی رہیں تو وہ خدا جو تجھ کو مکہ میں پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ خدا جو تجھ کو دنیا کا سردار بنانا چاہتا تھا، وہ خدا جو تجھ کو مکہ میں بہت بڑی عظمت دینا چاہتا تھا اس نے اپنی قدرت کا زبردست ہاتھ دکھایا۔پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو دیکھ کہ کس طرح ہم نے ان میں بیماری پیدا کر کے تمام لشکر کو تباہ کر دیا۔اور جب انسان ناکام و نامراد ہو کر بھاگ گیا تو اس لشکر کے راستہ میں ہم خود کھڑے ہو گئے۔غرض کَیْفَ اور تَرٰى اور رَبُّکَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کے اندر ایسے امور پائے جاتے ہیں کہ دیکھنے والا دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب واقعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہوا۔اوّل دو ہزار سال سے اوپر گذر گئے مگر مکہ پر کوئی حملہ نہ ہوا لیکن اس سال جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم