تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 350

پیدا ہونے والے تھے دشمن کےد ل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ مکہ پر حملہ کرے اور خانۂ کعبہ کو گرا دے۔اس کا موجب چاہے یہ سمجھ لو کہ یہودیوں اور عیسائیوں اور عربوں میں یہ تحریک شروع ہو گئی تھی کہ وہ موعود جس کی انبیاء کے نوشتوں میں ایک لمبے عرصہ سے خبر چلی آرہی ہے عنقریب ظاہر ہونےو الا ہے اور عیسائی ڈرتے تھے کہ اگر وہ موعود عرب میں ظاہر ہو گیا جیسا کہ بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ عرب میں ظاہر ہو گا تو ان کے لئے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اس لئے انہوں نے چاہا کہ عرب جس نقطۂ مرکزی پر متحد ہیں اسے گرا دیا جائے اور اس طرح ان کی طاقت کو توڑ دیا جائے۔اور چاہے یہ سمجھ لو کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اس کا سر کچلنے والا ایک زبردست انسان دنیا میں کھڑا ہونے والا ہے تو اس نے کوشش کی کہ وہ حربہ جو اس کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہے بے کار ہو جائے ان دونوں میں سے کوئی وجہ سمجھ لو بہرحال یہ حملہ اتفاق نہیں تھا۔آخر یہ سوچنے والی بات ہے کہ اگر خانۂ کعبہ پر کسی کی طرف سے حملہ ہونا تھا تو بناءِ کعبہ کے بعد پہلے سال کیوں نہ ہوا، دوسرے سال کیوں نہ ہوا، تیسرے سال کیوں نہ ہوا، چوتھے سال کیوں نہ ہوا، پانچویں سال کیوں نہ ہوا، چھٹے سال کیوں نہ ہوا؟ یا اگر کسی نے حملہ کرنا ہی تھا تو پہلی صدی میں کیوں نہ کیا، دوسری صدی میں کیوں نہ کیا، تیسری صدی میں کیوں نہ کیا؟ بائیس سو سال تک برابر خاموشی چلی گئی۔لیکن ادھر وہ شخص پیدا ہوتا ہے جس کے پیدا ہونے کی خبر خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت دی گئی تھی جس نے ساری دنیا کو اپنے مذہب سے روشناس کرنا تھا اور جس نے تمام قوموں کا مرجع بننا تھا۔اور ادھر خانۂ کعبہ کو تباہ کرنے کے لئے ایک لشکر آجاتا ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ خواہ یہ تدبیر انسانی دماغ سے پیدا کی گئی ہو خواہ شیطانی دماغ نے اس کو پیدا کیا ہو بہرحال یہ تھی اسی موعود کی طاقت توڑنے کے لئے۔دوم اللہ تعالیٰ نے صرف حملہ آور دشمن کو نہیں مارا بلکہ اس کی حکومت کو ہی مٹا دیا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَبْرَھَہ بلکہ فرمایا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ یعنی وہ قوم جو فیل والی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو مٹا دیا۔کیونکہ اس حکومت سے یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ میں روک نہ بنے۔یمن اور مکہ کا آپس میں گہرا تعلق تھا اگر یمن میں مسیحی حکومت رہتی اور صرف ابرہہ کا لشکر تباہ ہو جاتا تو ممکن تھا کہ اس کے بعد اور لشکر آتے اور مکہ پر حملہ کرتے اور اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں روک پیدا ہوتی۔پس خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کا استیصال کرنے کے لئے اس حکومت کو ہی مٹا دیا جس سے یہ خطرہ ہو سکتا تھا۔غرض یہ تباہی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سوچی سمجھی ہوئی تدبیر تھی۔آنے والے موعود کا راستہ صاف کرنے کے لئے۔اگر مکہ کے لوگ اس وقت لڑتے تو خدا تعالیٰ میں یہ بھی طاقت تھی کہ وہ مکہ والوں کو ابرہہ اور اس