تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 348
میں مقابلہ کی کوئی طاقت نہیں۔غرض کوئی صورت مقابلہ کی باقی نہ رہی۔لیکن ابرہہ پھر بھی ناکام ہو گیا۔پس یہاں یہ سوال نہیں کہ ابرہہ کے آدمی مر گئے خدا تعالیٰ جس بات کو پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بغیر ظاہری سامانوں کے مر گئے۔جتنی ظاہری طاقتیں اس کے سامنے آئیں انہوں نے شکست کھائی۔یمن کے لوگوں میں بغاوت ہوئی اور وہ ابرہہ کی فوجوں سے لڑے مگر انہوں نے شکست کھائی اور ان کا سردار اور لیڈر بھی قید ہو گیا۔پھر خثعم میں پہنچے تو وہاں بھی عرب قبائل نے اکٹھے ہو کر بادشاہ کا مقابلہ کیا لیکن وہاں بھی عرب مارے گئے اور ابرہہ کے مقابلہ میں زیر ہوئے۔اس کے بعد جب ابرہہ مکہ کے قریب پہنچا تو کنانہ اور ہذیل اور قریش نے مل کر مشورہ کیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمارے اندر اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔گویا جتنی انسانی تدبیریں تھیں ان کو یا تو ہیچ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا یا استعمال کرنے پر ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا۔جب کوئی صور ت نہ رہی تو حضرت عبدالمطلب اپنے ساتھیوں سمیت مکہ چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے اور ابرہہ کے لشکر کا انتظار کرتے رہے مگر لشکر مکہ میں داخل نہیں ہوا۔جب انہوں نے آدمی بھجوا کر معلوم کیا کہ کیا بات ہے تو انہیں پتہ لگا کہ انسانی تدبیر سے نہیں بلکہ محض خدائی ہاتھ سے ان میں چیچک پھیل گئی ہے اور وہ پراگندہ ہو کر بجائے مکہ پر حملہ کرنے کے ادھر ادھر پھیل گئے ہیں اور اپنی جانیں بچانے کی فکر کر رہے ہیں۔یہ سارا معاملہ کَیْفَ کی تفسیر تھا کَمْ کی تفسیر نہ تھا۔ورنہ با۱۲رہ ہزار کے ایک لشکر کا مارا جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ابھی چین کی ایک لڑائی کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں اسی۸۰ ہزار آدمی مارا گیا اور دس لاکھ زخمی ہوا یا پکڑا گیا اتنی بڑی تعداد کے مقابلہ میں دس بارہ ہزار کے لشکر کی تباہی کی حقیقت ہی کیا رہ جاتی ہے۔پھر فرق کیا ہے۔تم خود ان دونوں واقعات کو دنیا کے سامنے پیش کر کے دیکھ لو کہ ان میں سے کس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔آیا چین کی لڑائی کا جس میں اسی۸۰ ہزار آدمی مارا گیا ہے یا اس کا جس میں صرف بارہ ہزار آدمی شامل ہوا تھا مگر جب حملے کا وقت آیا تو اس میں ایک ایسی بیماری پھوٹ پڑی جس سے وہ وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔یقیناً ہر شخص اس سے متاثر ہو گا۔اس لئے نہیں کہ دس یا بارہ ہزار آدمی مرے بلکہ اگر صرف بارہ آدمی مکہ پر حملہ کرتے اور فرض کرو کہ مکہ میں صرف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہوتے اور یہ واقعہ پیش آجاتا تو جو اثر اس واقعہ کا طبیعت پر پڑتا اور جس طرح اس سے خدا تعالیٰ کی خدائی کا انکشاف ہوتا وہ با۱۲رہ لاکھ کے مرنے سے بھی نہ ہوتا۔اگر با۱۲رہ لاکھ انسان انسانی تدبیر سے مر جائے تو بہرحال یہی کہا جائے گا کہ وہ انسانی تدبیر سے مرا۔اور انسانی تدبیروں کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک غالب آتا ہے اور دوسرا مغلوب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر با۱۲رہ آدمی بھی خدائی ہاتھ سے مریں تو اس سے ایک ہیبت پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کی قوت کا ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوتا ہے جو طبائع پر اثر کئے بغیر نہیں