تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 346
باتوں کو ملا کر انہوں نے ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ کی طرح ایک افسانہ بنا لیا۔حالانکہ واقعہ صرف اتنا تھا کہ ان کو چیچک نکل آئی تھی۔باقی یہ کہ پتھروں کا کیا واقعہ ہے اس کا ذکر اگلی آیت میں آجائے گا۔بہرحال وہ بات جو میں نے بیان کی ہے اس کی تصدیق میں بعض اور روایات بھی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ چیچک والی بات ہی صحیح ہے۔درمنثور میں ابن اسحاق جو ایک بہت بڑے مؤرخ گذرے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں ( یہ روایت بعض اور کتابوں میں بھی پائی جاتی ہے) کہ آپ نے فرمایا میں نے خود مکہ میں اپنی آنکھوں سے دو آدمیوں کو دیکھا جو بھیک مانگ رہے تھے اور آنکھوں سے اندھے تھے۔میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ ابرہہ کے ہاتھیوں کے مہاوت ہیں(روح المعانی سورۃ الفیل )۔دیکھ لو اس روایت سے بات بالکل صاف ہو جاتی ہے۔چیچک ہی ایک ایسا مرض ہے جس سےا کثر لوگ اندھے ہو جاتے ہیں۔پرانے زمانہ میں تو اس قسم کے اندھوں کی بڑی کثرت تھی۔اگر اندھوں سے ان کے اندھا ہونے کی وجہ معلوم کی جاتی تھی تو سو میں سے اسّی کا جواب یہ ہوتا تھا کہ چیچک نکلنے کی وجہ سے وہ اندھے ہو گئے دراصل چیچک جب شدت سے نکلے تو آنکھ میں اس کے دانے نکل آتے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی لوگوں کی آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔اب دیکھو کہ پہلی روایت میں تو یہ ذکر تھا کہ پرندے پتھر مارتے ہر پتھر آدمی کے سر پر لگتا اور اس کے پاخانہ کے سوراخ سے نکل جاتا اور پھر اس کو چیچک ہو جاتی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان میں سے کسی بات کا ذکر نہیں فرماتیں۔وہ یہ نہیں کہتیں کہ میں نے ان کے سر دیکھے تو ان میں سوراخ تھے بلکہ وہ سیدھی طرح ایک بات بیان کر دیتی ہیں کہ میں نے بعض اندھوں کو مکہ کی گلیوں میں بھیک مانگتے دیکھا تو میرے دریافت کرنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ ابرہہ کے ہاتھیوں کے فیلبان تھے۔پھر روایت میں تو یہ ذکر آتا ہے کہ جس کو بھی پتھر لگتا وہ مر جاتا مگر حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے ان میں سے بعض لوگوں کو زندہ بھیک مانگتے دیکھا صرف اتنی بات تھی کہ اندھے ہو چکے تھے اور یہ صریح طور پر چیچک نکلنے کی علامت ہے اب بھی باوجود اس کے کہ چیچک کے ٹیکے نکل آئے ہیں اگر اندھوں سے پوچھو تو بہت سے ایسے اندھے نکل آئیں گے جن کی بینائی چیچک کے نتیجہ میں ضائع ہوئی ہو گی۔اسی طرح حلیۂ ابونعیم میں آتا ہے کہ لَیْسَ کُلُّھُمْ اَصَابَہُ الْعَذَابُ یعنی ہر ایک کو یہ عذاب نہیں پہنچا تھا۔اگر خدا نے پتھروں پر ہر ایک کا نام لکھ لکھ کر بھیجا تھا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ خدا تو پتھروں پر ان کا نام لکھے مگر وہ نہ مریں۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ یہ بیماری تھی جس سے کچھ مر گئے اور کچھ بچ گئے۔