تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 347
پھر یہ بھی تاریخوں سے پتہ لگتا ہے کہ جس کو وہ پتھر لگتا تھا اس کا گوشت جھڑنے لگ جاتا تھا۔یہ بھی چیچک کی ایک علامت ہے۔جب چیچک بڑی کثرت اور شدت کے ساتھ نکلتی ہے تو جسم کا گوشت گل سڑ کر جھڑنے لگتا ہے اور چمڑا بالکل گل جاتا ہے۔اس کے علاوہ پتھروں کی جو شکل بتائی گئی ہے وہ بھی چیچک کے دانوں سے ملتی ہے کہا جاتا ہے کہ وہ پتھر چنے سے چھوٹا اور مسور سے بڑا ہوتا تھا اور یہی چیچک کے دانوں کی کیفیت ہوتی ہے۔چیچک کا دانہ چنے سے چھوٹا اور مسور سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔دراصل جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس قسم کی کہانیاں بات کو پورے طور پر نہ سمجھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کسی نے ابرہہ کے لشکر پر اس آسمانی عذاب کے نازل ہونے کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی ہو کہ خدا نے ان پر پتھراؤ کر دیا اور سننے والے نے یہ سمجھا ہو کہ واقعہ میں ان پر پتھر گرے تھے۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں ’’تجھ پر پتھر پڑیں‘‘ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ واقعہ میں تیرے سر پر پتھر آ آ کر گریں۔میں سمجھتا ہوں ایسی ہی کوئی بات اس وقت کسی نے کہی ہو گی کہ آسمان سے ان پر پتھر پڑے۔اس کا تو یہ مطلب تھا کہ آسمان سے عذاب نازل ہوا مگر سننےو الے نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ واقعہ میں ان پر پتھر پڑے تھے۔پھر جب انہوں نے کسی ایسے شخص کو دیکھا جو اس مرض کے حملہ سے بچ گیا تھا اور اس کے تمام جسم پر انہوں نےد اغ دیکھے جو چنے سے کچھ چھوٹے اور مسور سے ذرا بڑے تھے تو سمجھا کہ یہی ان پتھروں کے نشان ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پتھر چنے سے چھوٹے اور مسور سے بڑے تھے۔مجھے خود گیارہ بارہ سال کی عمر میں چیچک نکلی تھی جس کے میری کلائی پر اب تک دو نشان ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک نشان مسور سے ذرا بڑا ہے اور دوسرا چنے سے ذرا چھوٹا۔مگر چونکہ عرب اس مرض کو جانتے نہیں تھے اس لئے جب انہوں نے اس کے متعلق باتیں سنیں تو قسم قسم کے قصے مشہور کرنے شروع کر دیئے اور ہمارے مفسرین نے وہی قصے اپنی تفسیروں میں درج کر لئے۔حالانکہ اصل حقیقت صرف اتنی ہے کہ اصحاب فیل میں چیچک کی بیماری پھیل گئی اور وہ تتر بتر ہو گئے۔بہت سے مر گئے، بہت سے اندھے ہو گئے اور کچھ بچ بھی گئے۔میں نے جیسا کہ بتایا تھا یہ سارا واقعہ ایک طرف کَیْفَ کی اور دوسری طرف تَرٰى اور رَبُّکَ کی تشریح ہے قرآن کریم نے کَیْفَ کا مختصر لفظ استعمال کر کے سارے مضمون کو کھول کر رکھ دیا ہے۔یعنی دیکھنا یہ نہیں کہ کیا ہوا، دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح ہوا۔یمن سے ابرہہ چلتا ہے ایک بہت بڑا لشکر ساتھ لیتا ہے۔راستہ میں عرب اس کا مقابلہ کرتے ہیں مگر وہ ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔تمام رستہ میں صرف تین جگہیں ایسی تھیں جہاں عربوں کے مقابلہ کا امکان تھا۔ان میں سے دو جگہ لڑائی ہوئی اور عربوں کو شکست ہو گئی اور تیسری جگہ یعنی مکہ پر خود اہل مکہ نے فیصلہ کر دیا کہ ہم