تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 345
نکل آئی تھی تو پہلی من گھڑت روایت کے ساتھ انہوں نے اس کو بھی ملا دیا اور روایت کو اس طرح شکل دے دی کہ وہ پرندے جس کو بھی پتھر مارتے تھے اس کو چیچک نکل آتی تھی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے مثل مشہور ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے پوچھا کہ بگلا پکڑنے کی کیا ترکیب ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ بگلا پکڑنے کی ایک بڑی عمدہ ترکیب ہے۔سردی کے موسم میں بگلا سُکڑا ہوا تالاب کے کنارے بیٹھا ہوا ہوتا ہے تم موم لو اور آہستہ آہستہ لیٹتے لیٹتے جھاڑیوں اور پتھروں کے پیچھے چھپتے بگلے کے قریب جاؤ اور اس کے سر پر موم رکھ دو۔اس کے بعد چپ کر کے کسی پتھر کے پیچھے بیٹھ جاؤ۔جب سورج نکلے گا اور گرمی پیدا ہو گی تو وہ موم آہستہ آہستہ پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں جا پڑے گی اور وہ اندھا ہو جائے گا۔اس وقت آگے بڑھ کر بگلے کو پکڑ لینا۔اس نے کہا اتنی کوشش کرنے کی بجائے کیوں نہ میں اسی وقت بگلے کو پکڑ لوں جب میں اس کے سر پر پہنچ جاؤں موم رکھنے اور اس کے پگھلنے کا انتظار کرنے اور پھر بگلے کے اندھے ہونے تک وہیں پتھروں کے پیچھے چھپ کر بیٹھے رہنے کی کیا ضرورت ہے۔اس نے جواب دیا کہ اگر اس طرح پکڑ لو گے تو اس میں استادی کون سی ہو گی۔بعینہٖ یہی مثال اس روایت کو بیان کرنے والوں کی ہے۔وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے پرندے بھجوائے ہر پرندے کی چونچ اور پنجوں میں پتھر تھے۔وہ پتھر ہر ایک کے سر پر گراتے اور پھر جس کو بھی پتھر لگتا اس کو چیچک نکل آتی۔سیدھی طرح کیوں نہ کہہ دیا کہ ان کو چیچک نکل آئی تھی۔یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کے لئے اتنی بڑی کہانی کی ضرورت ہوتی۔ہمارے سامنے خدا تعالیٰ روزانہ چیچک پیدا کرتا ہے مگر کبھی کوئی پرندے نہیں بھجواتا۔فرق صرف یہی ہے کہ عرب میں چونکہ اس سے پہلے کبھی چیچک نہیں ہوئی تھی اس لئے وہ سمجھ نہ سکے کہ یہ کیا چیز ہے۔جیسے آتشک پہلے یورپ میں ہوئی ہے اس کے بعد وہ دوسرے ممالک میں آئی۔اسی طرح ہیضہ انیسویں صدی سے پہلے یورپ میں نہیں تھا ایشیائے کوچک اور چین میں ہوتا تھا (The Encyclopedia Britanniaca Under word "Colera") پھر یہاں سےایک رَو چلی اور یورپ میں بھی ہیضہ کے واقعات ہونے لگے۔اب بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ فلاں کو ہیضہ ہو گیا اگر ہم کہیں کہ خدا نے بڑے بڑے جنّ اور دیو بھیجے وہ ناک میں پھونک مارتے تھے جس سے انتڑیاں پھول جاتیں اور اس کے بعد دست لگ جاتے تھے اور آدمی مر جاتا تھا تو کیا کوئی عقلمند اس کو ماننے کے لئے تیار ہو گا؟ اسی طرح چیچک ان کو ویسے ہی نکلی جیسے آج کل لوگوں کو نکلتی ہے مگر چونکہ عربوں کو اس مرض کا علم نہیں تھا اس لئے مختلف باتوں کو سن سن کر انہوں نے ایک عجیب قصہ بنا لیا۔کسی سے سنا کہ وہ پتھروں پر مرے پڑے تھے، کسی سے سنا کہ پرندے ان کا گوشت نوچتے تھے، کسی سے سنا کہ انہیں ایسے دانے نکل آئے تھے جو چنے سے چھوٹے اور مسور سے ذرا بڑے تھے۔تو ان سب