تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 343
لیکن ان کے منہ آدمیوں کی طرح تھے۔ان کی چونچیں اونٹوں کی طرح تھیں اور ان کے پنجے شیروں کی طرح تھے۔ہر پرندہ کے پاس تین پتھر تھے۔ایک پتھر اس نے چونچ میں پکڑا ہو اتھا اور ایک ایک پتھر اس نے ایک ایک پنجہ میں پکڑا ہوا تھا۔پتھروں کے متعلق یہ روایت ہے کہ وہ چنے کے دانے سے چھوٹے اور مسور کے دانہ سے بڑے تھے گویا چنے اور مسور کے دانہ کے درمیان ان کا حجم تھا۔ان پتھروں پر ابرہہ کے لشکر کے ایک ایک سپاہی کا نام لکھا ہوا تھا۔کسی پر ابرہہ کا، کسی پر کسی اور کا ،کسی پر کسی اور کا۔جس پتھر پر کسی کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا اسی کی طرف وہ پرندے جاتے اور اس کے سر پر وہ پتھر مارتے، پتھر اس کے سر پر لگتا اور اس کے پاخانہ کے مقام سے نکل جاتا اور وہ اسی وقت مٹی کا ڈھیر بن کر رہ جاتا۔اسی طرح لکھا ہے کہ ان پتھروں سے سب کے سب آدمی مارے گئے یعنی ابرہہ کے لشکر میں جس قدر آدمی تھے ان میں سے کوئی بھی نہیں بچا سوائے ابرہہ کے۔ابرہہ وہاں سے بھاگا۔اس کے نام کا پتھر جس پرندے کی چونچ میں تھا وہ بھی ساتھ ساتھ اڑتا گیا لیکن وہ پتھر اس نے پھینکا نہیں یہاں تک کہ ابرہہ یمن جا پہنچا وہاں سے اس نے جہاز لیا اور اس میں سوار ہو کر حبشہ کے ساحل پر پہنچا۔پھر حبشہ کے ساحل پر پہنچ کر اس زمانہ کے لحاظ سے پندرہ بیس دن کا سفر طے کرتے ہوئے وہ نجاشی کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ میں نے اس اس طرح خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اچانک پرندے آئے اور انہوں نے آسمان پر سے پتھر پھینکے جن سے وہ سارے کے سارے آدمی مر گئے جو میرے ساتھ گئے تھے۔نجاشی نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے میری عقل میں تونہیں آسکتا کہ چھوٹے چھوٹے پرندے آئیں لوگوں کو پتھر ماریں اور وہ مر جائیں۔اتنے میں کچھ کھٹکا ہوا اور ابرہہ نے آسمان پر ایک اسی قسم کا پرندہ دیکھ کر کہا۔بادشاہ سلامت! اس قسم کے پرندے آئے تھے جن کی چونچ اور پنجوں میں پتھر تھے اور وہ ایک ایک آدمی کو مارتے تھے۔ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ پرندے نے ایک پتھر ابرہہ کے سرپر پھینکا پتھر پڑنے کی دیر تھی کہ وہ مر کر زمین پر جا پڑا۔یہ وہ روایت ہے جو اپنی مکمل صورت میں راویوں نے بیان کی ہے۔اس روایت میں پتھروں کا ذکر آتا ہے اور اس لحاظ سے یہ میری پہلی بیان کردہ روایت کے خلاف بلکہ عقل کے بھی خلاف ہے اور کوئی عقل مند اس قسم کی باتوں کو صحیح تسلیم نہیں کر سکتا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اکثر روایتیں یہی بتاتی ہیں کہ ابرہہ وہاں سے بھاگا مگر اسے راستہ میں ہی چیچک ہو گئی اسی حالت میں وہ یمن پہنچا اور صنعاء کے قریب آکر مر گیا۔اور جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان روایات میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ جس شخص کو پتھر لگتا تھا اس کو چیچک نکل آتی تھی۔دراصل یہ بہت مبالغہ آمیز روایتیں ہیں کہ پتھر ان کے سر پر پڑتے اور ان کے پاخانہ کے سوراخ سے باہر نکل جاتے۔مگر اسی قسم کی روایتوں