تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 344
میں سے بعض میں یہ بھی آتا ہے کہ جس کو پتھر لگتا اس کو چیچک نکل آتی تھی۔روایت کے یہ الفاظ دوسری تمام روایتوں کا بھانڈا پھوڑ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہیں صرف چیچک ہوئی تھی۔مگر کہانی بنانے والوں نے اسے کچھ کی کچھ شکل دے دی۔یہ بات صحابہ کی متواتر روایت اور بعض دوسری روایتوں سے بھی ثابت ہے کہ انہیں چیچک ہو گئی تھی اور یہ بھی ثابت ہے کہ چیچک عرب میں پہلی دفعہ ابرہہ کے لشکر میں ہی نمودار ہوئی تھی۔اس کے بعد ایک مسلمان کو یہ یقین کرانے کی کوشش کرنا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے سمندر کی طرف سے خاص طور پر بعض ایسے جانو ربھجوا دیئے تھے جن کا دنیا میں کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا اور پھر یہ کہنا کہ وہ تھے تو چڑیا کے برابر مگر ان کے منہ آدمیوں کی طرح تھے چونچ اونٹ کی طرح تھی اور پنجے شیر کی طرح تھے بتاتا ہے کہ یہ کہانی بنانے والے نے الف لیلہ کے قصوں کو بھی مات کر دیا ہے اگر تو وہ یہ کہتے کہ وہ پرندے بڑے بڑے دیو معلوم ہوتے تھے جیسے خیالی اور تصوری عقاب کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔اور بتاتے ہیں کہ ان کے منہ بڑے خونخوار اونٹوں کی طرح تھے اور انہی کی طرح ان کی گردنیں اٹھی ہوئی تھیں۔شیروں کی طرح بڑے بڑے پنجے تھے اور ہر ایک پنجے اور منہ میں پچاس پچاس سیر وزنی پتھر تھے جنہیں وہ آسمان پر سے ابرہہ کے لشکر پر گراتے اور وہ اسی وقت مر جاتے۔تب تو کوئی بات بھی ہوتی مگر وہ کہتے ہیںکہ وہ تھا تو چڑیا کا پنجہ لیکن نظر شیر کا پنجہ آتا تھا۔بھلا چڑیا کے پنجہ سے شیر کی کیا ہیبت نظر آئے گی۔پھر چڑیا کی اتنی باریک سی چونچ سے جو تراشی ہوئی پنسل کی مانند ہو وحشی اونٹ کا اثر کس طرح پڑ سکتاہے۔پس یہ روایت اپنی ذات میں تمسخر سے کم نہیں اور بڑا تمسخر جو اس روایت میں کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ پرندے پتھر پھینکتے تھے تو جسے وہ پتھر لگتا اسے چیچک نکل آتی گویا نعوذباللہ خدا کو یہ نسخہ آج کل سوجھا ہے کہ وہ انسانی جسم کے اندر سے ہی چیچک کی بیماری پیدا کر دیتا ہے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کو یہ نسخہ معلوم نہیں تھا۔اسی لئے وہ پرندے اسے پیدا کرنے پڑے جو آدمیوں کے منہ والے اور اونٹ کی گردن والے اور شیر کے پنجے والے تھے اور وہ بعض عجیب قسم کے پتھر جو اب دنیا میں نہیں ملتے پھینکتے تھے۔یہ پتھر جس آدمی کے سرپر لگتے اس کے پاخانہ کے سوراخ سے نکل جاتے۔مگر اس سب جدوجہد اور کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوتا کہ پتھر جس کو لگتا اس کو چیچک نکل آتی تھی۔یہ بات اپنی ذات میں ہی بتاتی ہے کہ یہ ان پڑھ عربوں کی قوت متخیلہ تھی جس نے یہ قصہ بنایا۔چونکہ وہ جانتے نہیں تھے کہ چیچک کیا ہوتی ہے اس لئے جب چیچک ہوئی تو لوگوں نے عجیب عجیب قصے بیان کرنے شروع کر دیئے۔ہو سکتا ہے کہ کسی نے یہ بیان کیا ہو کہ پتھروں پر ان کی لاشیں ملیں۔پھر کسی اور نے یہ ذکر کیا ہو کہ پرندوں نے ان کا گوشت ٹکڑے ٹکڑے کیا ہو اتھا تو دوسرے نے یہ سمجھ لیا ہو کہ انہیں پرندوں نے ہی پتھر مار مار کر مار ڈالا تھا۔پھر جب انہوں نے کسی سے سنا کہ دراصل ان کو چیچک