تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 342
کے ماتحت رکھے ہوئے تھے وہ سیدھا یمن کی طرف آیا مگر اس کو بھی چیچک ہو گئی اور اتنی شدید ہوئی کہ اس کے سارے بدن میں پیپ پڑ گئی اور راستہ میں اس کا گوشت جھڑتا چلا گیا۔روایات میں کچھ مبالغہ بھی ہو جاتا ہے مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسے چیچک ہوئی اور شدید قسم کی ہوئی۔جب وہ صنعاء پہنچا تو روایات کے مطابق اس کی صرف ہڈیاں اور سر باقی رہ گیا تھا چنانچہ وہاں پہنچ کر وہ مر گیا(مجمع البیان تفسیر سورۃ الفیل قصۃ اصحاب الفیل)۔یہ تباہی اس قسم کی تھی اور ایسا غیر معمولی رنگ اپنے اندر رکھتی تھی کہ اس سے ایک تہلکہ مچ گیا اور تمام لوگ انتہائی طور پر مرعوب ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ عذاب ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ اس بارہ میں مفسرین نے کیا کیا روایات بیان کی ہیں۔یہاں صرف اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ عام روایت جو مشہور ہے اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ابرہہ اور اس کے لشکر پر اوپر سے پرندے پتھر مارتے تھے وہ پتھر ہرشخص کے سر پر پڑتے اور اس کے پاخانہ کی جگہ سے نکل جاتے(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔مگر انہی روایات میں عکرمہ کی بھی ایک روایت آتی ہے جو روح المعانی میں درج ہے اور اس میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ مَنْ اَصَابَہُ الْـحَجَرُ جَدَرَتْہُ جس شخص پر پتھر گرتا تھا اسے چیچک نکل آتی تھی پھر وہ کہتے ہیں وَہُوَ اَوَّلُ جُدَرِیٍّ ظَھَرَ بِاَرْضِ الْعَرَبِ۔یہ پہلا چیچک کا حملہ ہے جو عرب میں ظاہر ہوا اس سے پہلے عرب لوگ جانتے ہی نہیں تھے کہ چیچک کیا ہوتی ہے۔اسی طرح طبری میں یعقوب بن عتبہ کے متعلق لکھا ہے کہ اِنَّہٗ حَدَّثَ اَنَّ اَوَّلَ مَا رُؤِیَتِ الْـحَصْبَۃُ وَالْـجُدَرِیُّ بِاَرْضِ الْعَرَبِ ذَالِکَ الْعَامَ (جامع البیان زیر آیت تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ) یعنی یعقوب بن عتبہ یہ روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلا چیچک کا حملہ جو ملک عرب میں ہوا وہ اسی سال ہوا جس سال ابرہہ آیا تھا اس سے پہلے عرب میں کبھی چیچک نہیں ہوئی تھی۔اب میں وہ مختلف روایات بیان کرتا ہوں جو اس بارہ میں مفسرین نے بیان کی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو روایات میں نے پہلے بیان کی ہیں وہ بھی مفسرین اور مؤرخین کی ہی بیان کردہ ہیں لیکن میںنے پہلے وہ روایات لکھی ہیں جو میرے نزدیک زیادہ درست ہیں۔اب میں وہ روایات بیان کروں گا جن پر مفسرین نے اپنی تفسیر کی بنیاد رکھی ہے۔روایات میں آتا ہے کہ جب ابرہہ نے خانہ کعبہ پر مغمس میں حملہ کا ارادہ کیا اور اپنے ہاتھیوں کو لشکر کے آگے رکھنے کا حکم دیا تو بڑا ہاتھی جو اور تمام ہاتھیوں کا لیڈر اور سردار تھا بیٹھ گیا اور اس نے چلنےسے انکار کر دیا۔اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ سمندر کی طرف سے کچھ پرندے اڑتے ہوئے آرہے ہیں۔وہ پرندے چھوٹے چھوٹے تھے