تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 338

میں بتا چکا ہوں کہ اس وقت حضرت عبدالمطلب کے ساتھ آپ کے بیٹوں کےعلاوہ جو پہرہ دار کے طور پر گئے تھے بعض اور رؤوسا بھی تھے۔روایات میں آتا ہے کہ یعمر بن نفاثہ بنو کنانہ کے سردار اور خویلد بن واثلہ ہذیل کے سردار آپ کے ساتھ تھے۔حضرت عبدالمطلب پر تصوّف کا رنگ غالب تھا اور اس رنگ میں انہوں نے ابرہہ سے بات کی۔مگر دوسرے سیاسی ٹائپ کے آدمی تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں بھی ابرہہ سے بات کرنے کا موقع ملے۔جب حضرت عبدالمطلب بات کر چکے تو یعمر بن نفاثہ اور خویلد بن واثلہ نے کہا کہ ہم بھی کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔بادشاہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا تہامہ وادی یعنی مکہ اور اس کے اردگرد جس قدر علاقہ ہے اس تمام علاقہ کی طرف سے ہم یہ پیشکش لے کر آئے ہیں کہ آپ اس تمام علاقہ کے مال و دولت، مکانات، اونٹوں، بکریوں، گھر کے اثاثہ اور دوسری تمام چیزوں کی قیمت لگوا لیں اور اس تمام قیمت کا ۳ ۱آپ لے لیں اور ۳ ۲ہمارے پاس رہنے دیں ہماری درخواست صرف اس قدر ہے کہ آپ خانۂ کعبہ کو کچھ نہ کہیں اور اس کے گرانے کا ارادہ ترک کر دیں۔بادشاہ نے کہا نہیں میں تو خانۂ کعبہ کو ہی گرانے کے لئے آیا ہوں مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں۔اس پر یہ لوگ وہاں سے مکہ لوٹ آئے۔مکہ واپس آنے پر حضرت عبدالمطلب نے تمام لوگوں کو جمع کیا اور ابرہہ سے ان کی جو ملاقات ہوئی تھی اس کے حالات سنائے اور یہ بھی بتایا کہ ہم لوگوں نے اس کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی تھی کہ وہ تہامہ کے تمام اموال کا تیسر احصہ لے لے اور خانۂ کعبہ کو چھوڑ دے۔مگر اس نے اس تجویز کو ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے یہ حالات بتا کر انہوں نے کہا اب ابرہہ کا خانۂ کعبہ پر حملہ کرنا یقینی ہے مگر ظاہر ہے کہ ہمارے پاس نہ لشکر ہے اور نہ اس کے مقابلہ کا کوئی سامان ہے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ تم سب لوگ اس شہر کو چھوڑ دو اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ڈیرے لگا لو تاکہ جو کچھ ابرہہ نے کرنا ہے وہ کر لے یا جو کچھ خدا نے کرنا ہے وہ ظاہر ہو جائے اس کے بعد ہم مکہ میں واپس آجائیں گے۔یہ کہہ کر حضرت عبدالمطلب کچھ قریش دوستوں کےساتھ خانۂ کعبہ کے پاس آئے۔دل میں رقت تھی، سوز تھا، درد تھا۔خانۂ کعبہ کے دروازہ کا حلقہ جس کو پکڑ کر دروازہ کھولتے ہیں اسے انہوں نےا پنے ہاتھ میں لیا اور اللہ تعالیٰ سے نہایت سوز کے ساتھ دعا کرتے ہوئے یہ شعر کہے ؂ لَاھُمَّ اِنَّ الْعَبْدَ یَـمْنَعُ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ حَلَالَکْ لَا یَغْلِبَنَّ صَلِیْبُـھُمْ وَ مِـحَالُھُمْ غَدْوًا مِـحَالَکْ لَاھُمَّ یہ دراصل اَللّٰھُمَّ ہے۔عربی میں دستور ہے کہ بعض دفعہ شعری ضرورت کو مدّ ِنظر رکھتے اَللّٰھُمَّ کا ال گرا دیتے ہیں اور اللہ کی جگہ صرف لا کہہ دیتے ہیں۔