تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 337

غرض کے لئے آئے ہیں؟ حضرت عبدالمطلب نے ترجمان سے کہا کہ بادشاہ سے کہو آپ کے آدمی میرے دو سو اونٹ پکڑ کر لے آئے ہیں وہ مجھے واپس کر دیئے جائیں جب اس جواب کا ترجمہ کر کے ابرہہ کو سنایا گیا تو اس نے ترجمان سے کہا کہ ان سے کہو جب میں نے آپ کی شکل دیکھی تھی تو میں بہت ہی متاثر ہوا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ آپ بڑے عقلمند، لائق اور تجربہ کار انسان ہیں۔اسی لئے میں آپ سے ملنے کے لئے تخت سے نیچے اتر آیا۔مگر اب جو میں نے آپ کی بات سنی ہے تو میرے دل سے وہ سب اثر جاتا رہا ہے۔آپ نے سنا ہو گا کہ میں ایک بڑی فوج لے کر اس لئے آیا ہوں کہ اس مقام کو جو آپ کے اور آپ کے باپ دادوں کا عبادت گاہ ہے گرادوں۔میں مانتا یا نہ مانتا لیکن اس حسن ظنی کی وجہ سے جو مجھے آپ پر تھی میں یقین رکھتا تھا کہ آپ میرے سامنے یہی بات پیش کریں گے کہ ہمارے مقدس مذہبی مقام کو چھوڑ دو اور چلے جاؤ۔مگر آپ نے اس کا ذکر تک نہیں کیا حالانکہ وہ آپ کی عبادت گاہ ہے اور نہ صرف آپ کی عبادت گاہ ہے بلکہ آپ کے باپ دادا کی بھی یہی عبادت گاہ رہی ہے۔آپ نے میرے پوچھنے پر اگر ذکر کیا تو یہ کہ میرے دو سو اونٹ واپس کر دیئے جائیں بھلا یہ بھی کوئی اونٹوں کے ذکر کرنے کا موقع تھا۔پس مجھے تعجب ہے کہ آپ نے ان دو سو اونٹوں کا تو ذکر کیا جو آپ کی ملکیت تھے اور جن کو میرے آدمی لے آئے تھے مگر اس گھر کو بھول گئے جس سے آپ کا اور آپ کے باپ دادوں کا دین وابستہ ہے۔حضرت عبدالمطلب نے جب یہ بات سنی تو ترجمان سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہہ دو اونٹوں کا مالک میں ہوں اور میں نے آپ سے جو اونٹ مانگے ہیں یہی بتانے کے لئے مانگے ہیں کہ وہ اونٹ میرے ہیں اور میرے دل میں ان کا درد ہے۔اگر خانۂ کعبہ بھی کسی کا گھر ہے تو اس کے دل میں بھی اس کا درد ہو گا۔پس میرا مطالبہ غلط نہیں بلکہ میں نے اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر کے آپ کو یہ بتایا ہے کہ اگر ہمارا عقیدہ اس گھر کے متعلق صحیح ہے تو پھر آپ اس گھر پر حملہ کر کے نہیں بچیں گے۔کیونکہ اگر مجھے اونٹوں کی فکر ہے تو کیا کعبہ جس کا گھر ہے اسے یہ فکر نہیں ہو گی کہ وہ اسے آپ کے حملہ سے بچائے؟ باقی ہر انسان اپنی طاقت کے مطابق کام کرتا ہے۔اگر ہم لڑ کر مارے جائیں اور آپ پھر بھی اس گھر کو گرا دیں تو ہمارے لڑنے کا فائدہ کیا ہے اور اگر خدا نے اس گھر کو بچانا ہے تو ہمیں لڑائی کرنے کی ضرورت کیا ہے۔جس کا یہ گھر ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ابرہہ یہ جواب سن کر مبہوت سا ہو گیا۔مگر اس نے کہا مجھے اس کام سے اب کوئی روک نہیں سکتا۔حضرت عبدالمطلب نے کہا تو پھر آپ اور اس گھر والا آپس میں سمجھ لیں مجھے میرے اونٹ واپس دے دیئے جائیں۔اس پر ابرہہ نے اونٹوں کی واپسی کا حکم دے دیا اور حضرت عبدالمطلب کے اونٹ انہیں واپس دے دیئے گئے(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔