تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 339
لَاھُمَّ اِنَّ الْعَبْدَ یَـمْنَعُ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ حِلَالَکْ اے اللہ جب بندے کے گھر کو کوئی لوٹنے کے لئے آتا ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور وہ کسی کو اپنا گھر لوٹنے نہیں دیتا فَامْنَعْ حَلَالَکَ اے رب وہ اس کا گھر ہوتا ہے جس میں وہ آپ رہتا ہے یا اس کے بیوی بچے رہتے ہیں۔مگر یہ گھر ایسا ہے جس کے متعلق تو نے دنیا کے لوگوں کو کہا ہے کہ آؤ اور یہاں عبادت کرو۔پس میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو بھی اپنے اس گھر کی حفاظت فرما جس میں لوگ عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں اور اسے دشمن کے حملہ سے بچا۔لَا یَغْلِبَنَّ صَلِیْبُـھُمْ وَ مِـحَالُھُمْ غَدْوًا مِـحَالَکْ اے میرے رب کل ابرہہ اپنی صلیبیں اور لشکر لے کر اور اپنی تمام تدبیروں اورقوت اور جلال کے ساتھ خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے آئے گا۔اے خدا ان کی صلیبیں اور فوجیں اور قوتیں تیری قدرتوں اور تدبیروں اور طاقتوں پر کل غالب نہ آئیں۔یہ کہا اور قریش کو لے کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے اور ابرہہ کے حملہ کا انتظار کرنے لگے۔دوسرے دن صبح کے وقت ابرہہ نے اپنے لشکر کو تیار ہونے کا حکم دےد یا۔اس نے اعلان کیا کہ پہلے ہاتھی نکالے جائیں اور ان کے پیچھے پیچھے لشکر روانہ ہو۔جب صبح کے وقت ہاتھی نکالنے گئے تو ان کا سب سے بڑا ہاتھی جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اس کا نام محمود تھا الٰہی تصرّف کے ماتحت بیٹھ گیا اور اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔تمام تاریخیں اس بات پر متفق ہیں کہ جس وقت مکہ کی طرف اس کو ہانکا گیا تو وہ بیٹھ گیا۔جس طرح فوج میں سردار اور لیفٹیننٹ اور کیپٹن ہوتے ہیں اور ان کے حکم پر سپاہی حرکت کرتے ہیں اسی طرح ہاتھیوں کا بھی ایک لیڈر ہوتا ہے اور وہ اس سردار ہاتھی کے بغیر مقابلہ کے لئے نہیں نکلتے۔اگر ان کا سردار ہاتھی کھڑا ہو جائے تو وہ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ حملہ کرے تو وہ بھی حملہ کرتے ہیں۔بہرحال وہ اس کے تابع ہوتے ہیں اور اپنے لیڈر کے بغیر باہر نہیں نکلتے اگر نکلیں گے بھی تو بے ترتیبی کے ساتھ۔بعض دفعہ وہ اس خیال سے چل پڑتے ہیں کہ شاید ہمارا سردار پیچھے آرہا ہو۔مگر وہ اس کے بغیر لڑتے کبھی نہیں۔جب محمود نامی ہاتھی جو تمام ہاتھیوں کا سردار تھا اچانک بیٹھ گیا تو انہیں سخت فکر ہوا کہ اگر یہ نہ اٹھا تو باقی ہاتھی بھی نہیں اٹھیں گے اور ہمارا سارا پروگرام خراب ہوجائے گا۔چنانچہ اسے اٹھانے کے لئے نیزے مارے گئے۔کُھرپیاں اس کے بدن میں گھسیڑی گئیں۔اسی طرح دوسرے تمام آلات اور کانٹے وغیرہ اس کے پیٹ اور منہ پر مارے گئے مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا جب بہت مارتے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوجاتا مگر حملہ کے لئے مکہ کی طرف نہ چلتا۔آخر انہوں نےاس کا منہ دوسری طرف کیا تو وہ اٹھ بیٹھا اور چل پڑا۔اسی طرح وہ اس کا منہ جنوب