تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 325
بعد ہجرت حبشہ ہوئی۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ۴۵سال کے تھے تب مسلمان حبشہ پہنچے اس کے بعد مزید آٹھ سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے مگر نجاشی ایمان نہیں لایا۔۴۵ میں آٹھ۸ جمع کئے جائیں تو ترپن۵۳ سال بن جاتے ہیں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے اور آٹھویں سال آپؐ نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے جن میں سے ایک خط نجاشی کے نام تھا۔ترپن۵۳ میں یہ آٹھ۸ سال جمع کئے جائیں تو اکسٹھ۶۱ ہو گئے۔گویا اکسٹھ۶۱ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو خط لکھا اور وہ مسلمان ہو گیا۔اسلام لانے کے چھ ماہ بعد نجاشی کا انتقال ہو گیا (شرح زرقانی)۔اس اکسٹھ۶۱ سال میں وہ چھبیس۲۶ سال جمع کرو جو ابرہہ کے یمن میں گذرے تو ۸۷سال بن جاتے ہیں۔پھر اس میں نجاشی کی حکومت کا وہ زمانہ شامل کرو جو اس سے پہلے گذر چکا تھا اور پھر نجاشی کی بادشاہت سے پہلی عمر کا اندازہ لگاؤ تو اندازاً پچیس۲۵ تیس۳۰ سال شمار کرنے پڑیں گے۔۸۷میں ۲۵ جمع کئے جائیں تو ۱۱۲ سال بن جاتے ہیں اور اگر تیس۳۰ سال جمع کئے جائیں تو ۱۱۷ سال نجاشی کی عمر بن جاتی ہے اور یہ عمر بالکل غیر طبعی ہے۔جب تک تاریخوں سے قطعی طو رپر یہ عمر ثابت نہ ہو اس وقت تک عقل اس امر کو مان نہیں سکتی۔پس یہ روایت درایت اور عقل کے اعتبار سے بالکل غلط ثابت ہوتی ہے۔اس لئے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ عیسائیوں کی طرف سے یہ روایت بعد میں بنائی گئی ہے جسے مسلمان مفسرین نے سادگی سے اپنی تفسیروں میں درج کر لیا۔جیسا کہ ان کا عام طریق تھا کہ جو بھی روایت انہیں اپنے کسی راوی کی طرف سے ملتی اسے بغیر تحقیق کئے تفسیر میں درج کر لیتے۔اس روایت کی بھی انہوں نے تحقیق نہیں کی۔جب بعض عیسائیوں نے یہ روایت بنا کر کسی معتبر نظر آنے والے انسان کے ذریعہ مسلمانوں تک پہنچائی تو مفسرین نے اپنی کتابوں میں درج کر لی۔انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ درحقیقت اس روایت کے ذریعہ ابرہہ کے لئے بہانہ تلاش کیا گیا ہے اور یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کا خانۂ کعبہ پر حملہ ناجائز نہیں تھابلکہ پولٹیکل وجوہ رکھتا تھا۔ان روایات میں سے قلیس میں پاخانہ کرنے کی روایت زیادہ معتبر کتب کی ہے اور کثرت سے ملتی ہے گرجا کے جل جانے کی روایت اس سے کم معروف ہے اور کلسوم بن صباح کے حج کی روایت اور بھی کم ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے۔پس یہ روایت جو میرے نزدیک خود عیسائیوں نے وضع کی ہے بظاہر واقعات کے خلاف ہے۔اور پہلی دو۲ روایتوں میں سے ایک یا دونوں صحیح ہیں۔بہرحال ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ کام ایک فرد کا تھا یا پھر اتفاقی طور پر گرجا کی ہتک ہوئی۔دوسرے ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابرہہ نے اپنا یہ مشن بنا لیا تھا کہ خانۂ کعبہ کو کمزور کر دے۔اور عرب کو کسی نہ کسی طرح اس کی طرف رجوع کرنے سے روک دے۔پس سوال