تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 326
گرجا بنانے کا نہ تھا بلکہ ایک ایسا گرجا بنانے کا تھا جوخانہ کعبہ کو دنیا کی نظروں سے گرا دے اور یہ ایک سوچی سمجھی ہوئی تدبیر مقامِ ابراہیمؑ کو مٹانے کی تھی یا دوسرے لفظوں میں موعودِ کعبہ کی بعثت کو مشکوک و مشتبہ کرنے کی تدبیر تھی۔اور گو یہ مضمون ابرہہ کے ذہن میں نہیں ہو سکتاتھا۔مگر نتیجہ یہی نکلتا تھا۔پس اس واقعہ کو تَرٰی اور رَبُّکَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلانا کہ یہ واقعہ تیرے احترام اور اعزاز میں ظاہر کیا گیا ہے بالکل درست اور صحیح ہے اور حقیقت یہی ہے کہ درحقیقت اس واقعہ کے بیان سے خانۂ کعبہ کے اعزاز سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اعزاز کا بیان کرنا مقصود ہے۔بہرحال ابرہہ کو غصہ آیا اور اس نے ایک بڑا لشکر جمع کیا اور اپنے ساتھ کچھ ہاتھی بھی لے لئے، ایک ہاتھی کا نام محمود تھا بعض روایات میں ہے کہ اس کے ساتھ آٹھ ہاتھی تھے بعض میں ہے کہ بارہ تھے۔بعض میں ہے کہ نجاشی نے محمود نامی ہاتھی اس غرض سے بھجوایا تھا مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ نجاشی کا طریق اس کے خلاف ہے دوسرے کہیں تاریخ میں ذکر نہیں کہ نجاشی کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تھی۔بہرحال یہ ہاتھی ابرہہ نے مکہ والوں پر رعب ڈالنے کے لئے اپنے ساتھ لے لئے اور غرض یہ تھی کہ بجائے اس کے کہ خانۂ کعبہ کی دیواروں کو آدمی گرائیں زنجیریں باندھ کر خانۂ کعبہ کی چاروں دیواروں کو دو دو تین تین ہاتھیوں سے باندھ دیا جائے گا اور ایک ہی جھٹکے میں اس کی چاروں دیواروں کو منہدم کر دیا جائے گا۔اس طرح عربوں پر بہت زیادہ رعب پڑے گا اور خانۂ کعبہ کا بھی نعوذ باللہ چند منٹ میں صفایا ہو جائے گا۔یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے والی ہے جو میری اس پہلی دلیل کا مزید ثبوت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے تمام مذاہب میں موعودِ ادیان کی آمد کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار کیا جا رہا تھا اور عیسائیوں کو یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ اگر یہ رَو جاری رہی اور عرب میں کوئی مدعیٔ نبوت پیدا ہو گیا تو خانۂ کعبہ کے ذریعہ ان کو جو اتحاد حاصل ہے وہ اور بھی پختہ ہو جائےگا اور اہل عرب میں ایسی بیداری پیدا ہو جائے گی کہ ہو سکتا ہے عیسائی حکومت کا عرب سے خاتمہ ہو جائے اور خود اہل عرب کی حکومت قائم ہو جائے۔میری اس دلیل کا ایک مزید ثبوت وہ روایت ہے جو جامع البیان میں علامہ طبری نے لکھی ہے اور جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ابرہہ نے محمد بن خزاعی اور اس کے بھائی قیس بن خزاعی کو مقرر کیا کہ وہ سارے عرب میں اعلان کریں کہ لوگ قلیس کے حج کے لئے آیا کریں۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے لوگوں نے محمد نام رکھنا شروع کر دیا تھا۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جسے مسلمان بھی مانتے ہیں اور عیسائی بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے چھوٹے درجہ کے جو عالم ہیں وہ تو سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے محمد نام عرب میں تھا ہی نہیں۔مگر جو اعلیٰ پایہ کےعالم ہیں