تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 324
مارا گیا تھا تو یقیناً اسے پولٹیکل حق پہنچ جاتا تھا کہ وہ اس ملک پر حملہ کر دے جس کی طرف سے ایسا فعل ہو اہے۔پس میرے نزدیک عیسائی اثر کے ماتحت ابرہہ کے حملہ کو حق بجانب ثابت کرنے کےلئے یہ روایت وضع کی گئی ہے۔چونکہ مکہ پر ابرہہ کے حملہ کی کوئی جائز اور معقول وجہ نہیں تھی اور عیسائیوں پر اس سے بہت بڑا الزام آتا تھا۔اس لئے ابرہہ کو اس اعتراض کی زد سے بچانے کے لئے یہ روایت گھڑی گئی ہے تاکہ لوگوں پر یہ اثر ڈالا جا سکے کہ یہ حملہ بلاوجہ نہیں تھا بلکہ اسے ایک سیاسی اشتعال دلایا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے عرب پر حملہ کیا اور اس حملہ کا پولٹیکل نقطۂ نگاہ سے وہ پوری طرح حق دار تھا۔دوسرے اس روایت کی بناوٹ بتا رہی ہے کہ یہ عقل کے خلاف ہے اس لئے کہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ابرہہ کی بیٹی کا بیٹا حمیری تھا۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ ابرہہ کا یمن سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا۔نجاشی کی طرف سے وہ اس علاقہ کو فتح کرنے کے لئے جرنیل مقرر ہوا تھا۔اس لئے بہرحال یمن میں وہ ایک نو وارد کی حیثیت رکھتا تھا۔پس اگر اس نے اپنی لڑکی یمن میں بیاہی تھی تو یمن میں آنے کے بعد بیاہی تھی۔پھر اس بیٹی کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو بڑی عمر کا ہو کر حج کے لئے گیا اور یہ واقعہ پیش آیا۔ہم اندازاً یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جب وہ لڑکا حج کے لئے گیا ہو گا تو وہ بیس بائیس سال کا ضرور ہو گا۔پھر یہ تو نہیں کہ یمن میں آتے ہی اس نے سارے ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔لازماً اسے حمیر کو شکست دینے اور یمن پر قبضہ پانے میں کچھ سال لگے ہوں گے۔پھر اس کے بعد یہ بھی ثابت ہے کہ اریاط اور ابرہہ دونوں میں اختلاف پیدا ہوا اور یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے ایک لڑائی کی شکل اختیار کر گیا۔جس میں اریاط مارا گیا اور ابرہہ یمن کا اکیلا بادشاہ بن گیا۔ان تمام جھگڑوں میں اندازاً دو تین سال ضرور صرف ہو گئے ہوں گے۔اس کے بعد ایک دو سال اسے اپنی لڑکی کے لئے داماد تلاش کرنے میں صرف ہو گئے ہوں گے۔آخر غیرملکی شخص کو یوں ہی آسانی سے تو داماد نہیں بنا لیا جاتا اس شادی کے بعد اس کی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جو بائیس سال کی عمر میں حج کے لئے گیا۔اگر حمیر کو شکست دینے اور ملکی حالات کو سازگار بنانے میں کم از کم تین سال بھی صرف ہوئے ہوں اور صرف ایک سال غیرملکی داماد تلاش کرنے میں لگا ہو اور یہ سمجھا جائے کہ اس کی بیٹی کا بیٹا ۲۲ سال کی عمر میں حج کے لئے گیا تھا تو یہ ۲۶ سال بن جاتے ہیں گویا یمن میں آنے کے ۲۶ سال بعد ابرہہ نے خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے کی سکیم بنائی۔ادھر تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نجاشی کے وقت کا یہ واقعہ ہے وہ وہی تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام لایا اور اسلام پر ہی اس نے وفات پائی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے چالیس سال بعد دعویٔ نبوت فرمایا تھا(بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) اور دعویٔ نبوت کے پانچ سال