تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 319

ان تمام متمدن علاقوں پر عیسائیوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور درمیان کے علاقہ کو انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔جب عربوں میں ایک آنے والے موعود کے متعلق احساسات پیدا ہوئے اور ان میں بیداری کے آثار نظر آنے لگے تو عیسائیوں نے سمجھا کہ اگر عرب منظم ہو گئے تو وہ ہمیں یمن سے بھی نکال دیں گے اور شمالی علاقوں سے بھی نکال دیں گے۔معلوم ہوتا ہے جب ابرہہ نے یمن میں گرجا بنایا تو اس کے ساتھ ہی اس کے دل میں یہ احساس بھی پیدا ہو گیا کہ میں اس گرجا سے یہ بھی کام لوں کہ عرب کے خانۂ کعبہ کی عزت کو گرادوں اور اہلِ عرب کی توجہ اپنے گرجا کی طرف پھرا دوں۔اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو یہ کہ عیسائیت پھیلے گی۔دوسرے عربوں کا اتحاد ٹوٹ جائے گا۔کوئی ایک گھر نہیں رہے گا جس میں وہ جمع ہو سکیں اس لئے آئندہ اگر عرب میں کوئی مدعی کھڑا بھی ہوا تو اس کے لئے اپنی حکومت بنانے میں آسانی نہیں ہو گی۔اس خیال کی وجہ سے ابرہہ نے یہ تدبیر کی ورنہ گرجے دنیا میں بنا ہی کرتے ہیں مگر کبھی کسی گرجا سے اس رنگ میں کام نہیں لیا گیا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ابرہہ نے اس امر کا اعلان تمام مملکت میں کروا دیا کہ عرب آئندہ قلیس کی زیارت کے لئے آیا کریں اور پھر اپنی اس سکیم کو پوراکرنے کے لئے ابرہہ نے عرب کے بڑے بڑے رؤوسا کو بلا کر انہیں رشوتیں دیں۔انعام و اکرام کے وعدے کئے اور ان سے کہا کہ تم سارے عرب میں یہ اعلان کرو کہ آئندہ خانۂ کعبہ کی بجائے اہل عرب اس گرجا میں اکٹھے ہوا کریں جو صنعاء میں بنایا گیا ہے اور بیت اللہ کی بجائے اس کی زیارت کے لئے آیا کریں۔ابرہہ کی یہ تحریک صاف بتاتی ہے کہ یہ جو کچھ کیا گیا محض ایک پولٹیکل چال کے طور پر کیا گیا۔ورنہ دنیا میں اور ہزاروں گرجے تھے کسی اور گرجے کے متعلق ایسی تحریک کیوں نہیں کی گئی۔پھر جو یمن میں گرجا بنایا گیا تھا اس کی یمن کے لحاظ سے بے شک بڑی حیثیت تھی مگر ایبے سینیا کے گرجوں کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی جس کی طرف سے وہ خود ایک گورنر اور تابع حاکم تھا۔یقیناً ایبے سینیا میں اس سے بھی بڑے بڑے گرجے ہوں گے۔مگر کبھی ایبے سینیا کی حکومت نے یہ کوشش نہیں کی کہ عرب ان کے گرجوں کی طرف رجوع کریں اور خانہ کعبہ کو چھوڑ دیں اسی طرح رومن حکومت میں ہزاروں گرجے تھے اور رومن حکومت اس زمانہ میں ایسی زبردست تھی کہ حبشہ کی بھی وہی حاکم تھی۔یمن کی بھی وہی حاکم تھی۔پھر شام، فلسطین، انطاکیہ اور یونان وغیرہ سب اس کے قبضہ میں تھے۔اتنی بڑی حکومت میں جس قدر گرجے ہو سکتے ہیں اور جتنے شاندار ہو سکتے ہیں وہ ایک ظاہر امر ہے۔مگر رومن حکومت نے بھی کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ غیرقومیں ان کے کسی معبد کو مقدس قرار دیں اور اس کی زیارت کے لئے آیا کریں۔پھر یمن میں ابرہہ نے ایسا کیوں کیا صرف اس لئے کہ وہ خانۂ کعبہ کی حرمت کو گرا دے۔اور خانۂ کعبہ کی حرمت کو گرانے کا خیال اسے اس لئے آیا کہ اس نے دیکھا کہ اہلِ عرب میں یہ احساس پیدا