تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 320

ہو رہا ہے کہ ہم میں ایک نبی آنے والا ہے۔اس نے سمجھا کہ اگر یہ دو چیزیں مل گئیں تو لازماً عرب حکومت قائم ہوجائے گی اور ہمارا رہنا مشکل ہو جائے گا چنانچہ اسی احساس کے ماتحت اس نے یہ اعلان کر دیا۔بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابرہہ نے علاوہ اپنی مملکت میں اس قسم کا اعلان کرنے کے خود نجاشی کو بھی اطلاع دے دی کہ میں چاہتا ہوں کہ عربوں کی توجہ خانۂ کعبہ سےہٹا کر صنعاء کے گرجاکی طرف پھرا دوں اور عربوں کو بھی معلوم ہو گیا کہ ابرہہ نے نجاشی کو ایسا خط لکھا ہے۔جہاں تک میرا احساس ہے میں سمجھتا ہوں کہ نجاشی کو ابرہہ کی اس سکیم سے کوئی ہمدردی نہیں تھی اور غالباً ابرہہ نے اسے اپنی ساری سکیم بتائی بھی نہیں صرف مجملاً اس نے نجاشی کو اطلاع دے دی۔جس سے غرض یہ تھی کہ اگر اس سے بعد میں کوئی فتنہ اٹھے تو بادشاہ ناراض نہ ہو کہ مجھے اس سکیم سے کیوں ناواقف رکھا گیا ہے۔چنانچہ اس نے اتنی خبر تو دے دی کہ عیسائیت کو یہاں کے لوگوں میں رُوشناس کرنے کے لئے میں عربوں میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ وہ صنعاء کے گرجا کی طرف توجہ کریںاور بیت اللہ کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لیں مگر اس نے تفصیلاً اپنی سکیم نجاشی کے سامنے نہیں رکھی۔جب عربوں کو معلوم ہوا کہ ابرہہ نے نجاشی کو ایسا خط لکھا ہے اور اس نے اپنی مملکت میں اعلان کرایا کہ آئندہ لوگ خانۂ کعبہ کی بجائے قلیس کی زیارت کے لئے آیا کریں تو ان میں سخت جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بات معمولی نہیں۔یوں گرجے دنیا میں بنا ہی کرتے ہیں۔بے شک اس کے پاس روپیہ زیادہ تھا اس لئے اس نے زیادہ بلند عمارت بنا لی یا زیادہ اچھی لکڑی اس نے لگا لی یا زیادہ ماہر انجینئر اس نے گرجا کی تعمیر کے لئے منگوا لئے یا زیادہ پائیدار روغن اس نے کروا دیا مگر یہ کیا مطلب ہے کہ اس کے بعد بادشاہ کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ گرجا سارے عرب کا نقطۂ مرکزی بن جائے۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ یہ ایک پولٹیکل چال چلی جارہی ہے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اہل عرب میں جو سیاسی دماغ کے مالک تھے ان میں بھی قدرتاً جوش پیدا ہوا اور جو مذہبی لوگ تھے ان میں بھی جوش پیدا ہوا اور سب میں یہ احساس پیدا ہوا کہ خانۂ کعبہ کی ہتک کی جارہی ہے خصوصاً قریش میں یہ جوش بہت زیادہ پھیل گیا۔جس وقت یہ خبر لوگوں میں عام طور پر پھیل گئی تو ایک دن کوئی عرب جو کوئی مشہور آدمی نہیں تھا بلکہ ایک معمولی آدمی تھا یا زیادہ سے زیادہ کسی قبیلہ کا رئیس ہو گا صنعاء میں آیا (عرب لوگ وہاں آتے رہتے تھے کیونکہ یمن کی بادشاہت منظّم تھی اور انہیں اپنی حاجات لے کر وہاں آنا پڑتا تھا) اور کسی بہانے سے اس نے گرجا میں سونے کی اجازت حاصل کر لی۔یوروپین گرجوں کےساتھ تو رہائشی کمرے نہیں ہوتے۔مگر ایشیائی گرجوں کےساتھ رہائشی کمرے بھی ہوتے ہیں اور اسی قسم کے کمرے قلیس کے ساتھ بھی تھے۔رات کو وہ وہاں سویا تو جیسے اوباش لوگوںکا طریق