تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 27
کرتے ہیں۔یہی کارٹلز ہیں جو جنگوں کاباعث ہیں کیونکہ بعض ممالک کی ساری کی ساری اجناس کارٹل سسٹم کے ماتحت تاجر خرید لیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک کی تجارت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ لڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔سورۂ زلزال میں بیان شدہ پیشگوئی کے واقعہ ہونے کا زمانہ یہ وہ زلزلہ ہے جو اس وقت دنیا پر آرہا ہے اور جس کا ہزارواں حصہ زلزلہ بھی اس سے پہلے کسی ایک وقت میںدنیا پر نہیں آیا۔اب یہ زلزلہ جو ایک طرف مادی زمین پر آ رہا ہے اور دوسری طرف اہل زمین پر آ رہا ہے قیامت کے مشابہ نہیں تو اور کس کے مشابہ ہے؟ اللہ تعالیٰ اِسی زلزلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس دن جب دنیا کفر میں ڈوب جائے گی اور دین بے کس ہو جائے گا خدا تعالیٰ پھر اس بیّنہ کے ذریعہ سے جو رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ ہے ( یعنی اس کے مثیل کے ذریعہ سے) دنیا کو کفر سے نجات دے گا۔اِذَا ظرف جملۂ محذوف ہے اور اس کا عامل ہے وَیَکُوْنُ کَذَا ثَانِیًا اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔یعنی ایک دفعہ تو اہل کتاب اور مشرکین کو ہم اپنے رسول کے ذریعہ جو صحفِ مطہّرہ لے کر آیا ہے کفر سے نجات دے چکے ہیں اور ہم کہہ چکے ہیں کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ مگر مقدر یوں ہے کہ ہمارا یہ رسول ایک دفعہ پھر اس زمانہ میں لوگوں کو کفر سے نجات دے گا جب دنیا میں گمراہی اور تباہی اور خرابی پیدا ہوجائے گی اور زمین اور اہلِ زمین دونوں پر زلزلۂ عظیمہ آجائے گا۔پہلے مفسرین نے اِذَا کا عامل تُحَدِّثُ کو بتایا ہے اور يَوْمَىِٕذٍ کو اِذَا کا بدل بتایا ہے اور مطلب یہ لیا ہے کہ زمین اپنی خبریں اس وقت بتائے گی جب زمین پر زلزلہ آئے گا۔مگر میرے نزدیک تُحَدِّثُ عامل ہے يَوْمَىِٕذٍ کا اور یہ جملہ مستانفہ ہے یعنی تُحَدِّثُ سے ایک نیا مضمون شروع کیا گیا ہے کہ اس دن یہ بھی ہوگا کہ زمین اپنی اخبار بتائے گی۔اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا پہلے مضمون کے تسلسل میں ہی بیان کیا گیا ہے یعنی ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ پھر ہونے والا ہے۔وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ۰۰۳ اور زمین اپنے بوجھ نکال (کر پھینک) دے گی۔حلّ لُغات۔اَثْقَالٌ۔اَثْقَالٌ ثِقْلٌ کی جمع ہے اور ثِقْلٌ کے معنے بوجھ کے بھی ہوتے ہیں اور قیمتی شے کے بھی۔ثِقْلٌ کے ایک معنے مَتَاعُ الْمُسَافِرِ وَ حَشْمُہٗ کے ہیں یعنی مسافر کا سامان اور اس کے خادم وغیرہ۔جب سفر پر جاتے ہوئے کسی کے ساتھ سامان یا خادم وغیرہ ہوں تو عربی زبان میں ان کو اَثْقَال کہا جاتا ہے۔اسی طرح