تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 26
ایسے آلات نکل آئے ہیں کہ جن کہ وجہ سے وہ مریض جن کے دل حرکت نہیں کر سکتے یا سخت کمزوری سے کرتے ہیں ان کی زندگی کے بھی سامان پیدا ہو گئے ہیں چنانچہ ان کو ان آلات میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آدمی جو دوسری صورت میں گھنٹہ دو گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا اس طرح بعض دفعہ مہینوں اور سالوں ان آلات میں پڑا رہتا ہے اس کا دل حرکت کرتا رہتا ہے اور قانونِ قدرت کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اس دوران میں بیماری کو دور کرکے اسے اچھا کر دے۔غرض پرانی کتب مذہب کے سوا اب داستان امیر حمزہ بن کر رہ گئی ہیں اور دنیا روز بروز کہیں سے کہیں چلی جا رہی ہے۔(۶) اقتصادیات کی حالت بھی بالکل بدل گئی ہے۔پہلے دنیا کی تمام تجارت بارٹر سسٹم پر چلتی تھی۔لوگ ایک جگہ سے مال لیتے اور دوسری جگہ پہنچا دیتے وہاں سے اس کے بدلہ میں کوئی ایسی چیز لے لیتے جس کی انہیں ضرورت ہوتی تھی۔پھر وہاں کا مال اٹھا کر تیسرے ملک میں لے جاتے اور اس ملک کی کوئی ایسی چیز اس مال کے تبادلہ میں لے لیتے جس کی انہیں احتیاج ہوا کرتی تھی اس طرح جنس کے بدلہ میںجنس دی جاتی اور اپنی اور دوسروں کی ضرورتیں پوری کی جاتیں۔اس ذریعہ سے ملک غریب نہیں ہوتے تھے کیونکہ جتنا مال کسی ملک سے لیا جاتا تھا اتنا مال ہی اس کو دوسری شکل میں دے دیا جاتا تھا۔مگر اب بارٹر سسٹم بالکل ختم ہو گیا ہے بنکنگ کا زور ہے اور بنک کی ہنڈی سے ہی ساری تجارت چلتی ہے اس کی وجہ سے غریب اور کمزور ممالک بالکل لوٹے جارہے ہیں۔پھر افراد کی تجارت اب قریباً ختم ہے اب زیادہ تر کمپنیاں بنتی اور تجارتی کاروبار میں حصہ لیتی ہیں۔چنانچہ غور کر کے دیکھ لو بڑی بڑی تجارتیں سب کمپنیوں کے ہاتھ میں ہیں جن کو پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔کمپنیوں سے اوپر ٹرسٹ بن گئے ہیں جو آپس میں معاہدہ کر کے ملک کی تجارت کو اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں۔مثلاً دس پندرہ بڑی بڑی کمپنیاں آپس میں مل جاتی ہیں اور وہ معاہدہ کر لیتی ہیں کہ ہم جو کچھ فروخت کریں گی ایک مقررہ قیمت پر کریں گی ایک دوسرے کا تجارتی رنگ میں مقابلہ نہیں کریں گی۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اسی قیمت پر چیز خریدیں خواہ وہ کس قدر ہی مہنگی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ جس کے پاس بھی جاتے ہیں انہیں ایک ہی قیمت بتائی جاتی ہے۔یہ تو ملک کے بڑے بڑے تاجروں کا آپس میں سمجھوتہ ہوتا ہے جو ٹرسٹ سسٹم کہلاتا ہے اس سے مزید ترقی کر کے اب کارٹلز بن گئے ہیں یعنی مختلف ممالک کے بڑے بڑے تاجر یا مختلف ممالک کی بڑی بڑی کمپنیاں آپس میں کسی تجارت کے متعلق سمجھوتہ کرلیتی ہیں اور وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ فلاں فلاں چیز اس نرخ کے علاوہ اور کسی نرخ پر فروخت نہیں کی جائے گی۔اس کے نتیجہ میں وہ تمام ممالک کی تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیںاورجو قیمت چاہتے ہیں لوگوں سے وصول