تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 305

کس طرح کیا۔یہاں کمیت پر زور دینا مقصود نہیں۔یہ مراد نہیں کہ دس مرے تھے یا سو، ہاتھی مرے تھے یا کتے، افسر مرے تھے یا ماتحت، بلکہ ان غیر معمولی حالات کی طرف اشارہ مقصود ہے جن میں ان کی ہلاکت واقعہ ہوئی۔خواہ ایک ہی شخص مرا ہو مگر وہ مرا اس طرح کہ دنیا کہتی تھی کہ وہ نہیں مرے گا مگر پھر بھی وہ مر گیا۔پس یہاں کمیت کا بتانا مقصود نہیں بلکہ کیفیت کا بتانا مقصود ہے۔یعنی غیر معمولی حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کر دیئے گئے۔جن حالات کو انسانی عقل سمجھ ہی نہیں سکتی تھی۔مگر مفسرین کا بڑا زور اس امر پر ہوتا ہے کہ ان کے سر پر پتھر پڑے اور پاخانہ کی جگہ سے نکل گئے۔یا یہ کہ ان میں سے کوئی ایک بھی بچ کر واپس نہ جا سکا۔حالانکہ قرآن اس پر زور ہی نہیں دے رہا۔قرآن تو کہتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ کیا تم نے دیکھا اور غور کیا کہ تمہارے رب نے کیسے غیر معمولی حالات میں اصحاب الفیل کو تباہ کیا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ان میں بڑی موت واقعہ ہوئی۔بڑی موت تو بعض دفعہ جہاز کے ڈوبنے سے بھی ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ جس امر پر زور دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تم میرا ہاتھ دیکھو اور اس امر پر غور کر وکہ جو کچھ کیا تھا میں نے کیا تھا۔کسی انسانی ہاتھ کا اس میں دخل نہیں تھا۔پس حقیقت اور واقعات پر زور دینا اس جگہ مطلوب نہیں بلکہ اس کے نادر اور مخفی الاسباب ہونے پر زور دینا مقصود ہے۔یہ سوال نہیں کہ ابرہہ اور اس کا لشکر سب کا سب مر گئے یا کچھ بچ بھی گئے۔بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح مرے۔جو بھی مرے ان کے مرنے میں کسی انسانی تدبیر کا دخل نہیں تھا بلکہ محض ہمارے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوا۔پس یہاں خدا اپنے فعل کو پیش کر رہا ہے۔وہ یہ نہیں بتاتا کہ ابرہہ پر کیسی تباہی آئی۔بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اس پر کیسے تباہی آئی۔وہ یہ کہتا ہے کہ ہم نے ابرہہ کو ان حالات میں مارا جبکہ دنیا اس کے مارے جانے کا خیال بھی نہ کر سکتی تھی۔پس خدا تعالیٰ اس جگہ اپنے فعل پر زور دے رہا ہے اور اس پر زور دے رہا ہے کہ اس نے یہ فعل محض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کیا۔پس اس سور ۃ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنی قدرت دکھانے کا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو دشمن کے حملہ سے بچانے کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے خانۂ کعبہ کی حفاظت یا اس کا بچنا ایک ضمنی چیز ہے اور ایسی ہی ہے جیسے کسی بڑے آدمی کی دعوت کے ساتھ اس کے نوکر کی بھی دعوت ہو جاتی ہے یا کسی بڑے آدمی کی دعوت ہو تو اس کے پرائیویٹ سکرٹری کو بھی بلا لیا جاتا ہے۔پرائیویٹ سکرٹری اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقصود وہی بڑا آدمی ہوتا ہے جس کے اعزاز میں دعوت دی جارہی ہوتی ہے۔اسی طرح خانۂ کعبہ کی حفاظت اصل مقصود نہیں تھی بلکہ اصل مقصود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت تھی۔چنانچہ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ تو نے دیکھا تیرے رب نے کس طرح معاملہ کیا۔اس