تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 304
فَعَلَ رَبُّكَ کے الفاظ ہیں یعنی تیرے رب نے کس طرح کیا۔یہ نہیں فرمایا کہ اَلَمْ تَرَ مَا فَعَلَ رَبُّكَ تجھے معلوم نہیں کہ تیرے رب نے کیا کیا۔کس طرح کیا اور کیا کیا میں بہت بڑا فرق ہے۔اگر صرف یہ بیان کرنا مقصود ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل سے کیا کیا تو كَيْفَ کا لفظ اللہ تعالیٰ اس جگہ استعمال نہ کرتا مگر اس نے كَيْفَ کا لفظ استعمال کیا ہے جو بتاتا ہے کہ یہاںیہ بیان کرنا مقصود نہیں کہ اصحاب الفیل سے کیا ہوا۔بلکہ یہ بتانا مقصود ہےکہ اصحاب الفیل سے جو کچھ ہوا کس طرح ہوا۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ کلام کے مفہوم میں بہت بڑی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔فارابی ایک مشہور مسلمان فلسفی گذرے ہیں جس طرح یورپ میں ہیگل وغیرہ مشہور ہیں اسی طرح مسلمانوں میں فارابی اسی پایہ کے فلسفی تھے۔سارا دن فلسفہ اور ادب کی باتوں میں ہی مشغول رہتے تھے۔زبان کے لحاظ سے بھی بہت بڑے ادیب تھےاور چوٹی کے زبان دان سمجھے جاتے تھے۔ایک دفعہ وہ بازار میں سے گذر رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ ایک آٹھ نو سال کا لڑکا حلوا بیچ رہا ہے انہوں نے اس لڑکے سے پوچھا کَیْفَ تَبِیْعُ الْـحَلْوٰی تم حلوا کس طرح بیچتے ہو۔اس نے کہا رِطْلًا بِدِرْھَمٍ ایک درہم کے بدلہ میں مَیں ایک پونڈ دیتا ہوں۔فارابی نے یہ جواب سنا تو انہوں نے اس کے گلے میں پٹکا ڈال لیا اور شور مچا دیا کہ کتنا بڑا اندھیر ہے عربی زبان کا خون ہو رہا ہے اور کوئی شخص توجہ نہیں کرتا۔ادھر لڑکے نے چیخیں مارنا شروع کر دیا۔شور سن کر بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے چونکہ وہ آدمی بڑے پایہ کے تھے اس لئے کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ لڑکے کو ان کے ہاتھ سے چھڑائے۔یوں سمجھ لو جیسے علامہ اقبال یا غالب اپنےز مانہ میں کسی کو پکڑکر شور مچا دیتے کہ اردو زبان کا قتل ہو گیا۔ان کے سامنے کون راہ گیر بولنے کی جرأت کر سکتا تھا۔اسی طرح یہ واقعہ ہوا لوگ حیران تھے لیکن بات میں دخل نہ دے سکتے تھے۔آخر بلدہ کا کمشنر پولیس آیا پہلے تو وہ اس نظارہ کو دیکھ کرگھبرایا۔مگر آدمی ہوشیار تھا کہنے لگا حضور اس مجرم کو چھوڑیئے اور ہمارے حوالہ کیجئے ہم اس کو سزا دیں گے پھر اس نے پوچھا کہ حضور اس نے قصور کیا کیا ہے۔انہوں نے کہا قصور کا پوچھتے ہو اس سے بڑ ھ کر قصور کیا ہو گا کہ میں كَيْفَ سے سوال کرتا ہوں اور یہ کَمْ کا جواب دیتا ہے۔ہماری زبان برباد کر دی گئی اور ہم پر ظلم کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ فارابی تو ایک بچے سے بھی یہ امید رکھتے تھے کہ وہ صحیح عربی بولے مگر مسلمان خدا تعالیٰ سے بھی یہ امید نہیں رکھتے کہ وہ اپنے کلام میں صحیح عربی الفاظ استعمال کرے۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تو كَيْفَ کا لفظ استعمال کیا ہے مگر اس کی مراد کَمْ سے ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ كَيْفَ کے لفظ نے مضمون کو ایسی خوبی بخش دی ہے جو اس کی شان کو بہت بڑھا دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ تمہیں معلوم ہے کہ ان سے