تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 306

میں رَبُّكَ کا لفظ صاف طور پر بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ اس واقعہ سے خانۂ کعبہ کو بچانا اتنا مطلوب نہ تھا جتنا تیری ذات کو بچانا مقصود تھا۔اگر خانۂ کعبہ کو بچانا اس واقعہ کا اصل مقصود ہوتا تو یوں فرماتا۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّ الْکَعْبَۃِ تو نے دیکھا کہ کعبہ کے رب نے کس کس طرح کا معاملہ کیا۔ظاہر ہے کہ جب اس نشان میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ تھا تو خدا تعالیٰ کا ہی یہ حق ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے یہ نشان کس کے لئے دکھایا تھا۔اگر تو اس نشان میں انسانی ہاتھ ہوتا تو بے شک انسان کہہ سکتے تھے کہ یہ نشان فلاں کے لئے ظاہر ہوا ہے۔مگر جبکہ اس میں کسی انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ محض خدا کا ہاتھ ہے۔تو اسی کا حق ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس نے یہ نشان کس کے لئے ظاہر کیا تھا۔فرض کرو ایک دعوت کرنے والا الف کے اعزاز میں دعوت کرتا ہے تو ب اور ج کا کیا حق ہے کہ وہ یہ کہیں کہ یہ دعوت د کے اعزاز میں دی گئی ہے۔اگر ب اور ج کوئی ایسی بات کہیں گے تو ہم دعوت کرنے والے سے پوچھیں گے کہ بتاؤ تم نے کس کے اعزاز میں دعوت دی تھی پھر جو کچھ وہ کہے گا وہی فیصلہ کن بات ہو گی۔اسی طرح اس آیت میں ایک طرف كَيْفَ فَعَلَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس میں کسی بندے کا ہاتھ نہیں تھا۔پھر رَبُّكَ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ ہم نے یہ نشان کس کے لئے ظاہر کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک مکہ والوں کی بھی خاطر ہو گئی۔بے شک خانۂ کعبہ کا بھی اعزاز ہو گیا۔مگریہ ایک ضمنی بات تھی۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو یہ نشان محض تیرے لئے دکھایا تھا اور تو ہی ہمارا اصل مقصود تھا۔پس درحقیقت یہ نشان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے تھا اور کسی کے لئے نہیں تھا۔مکہ کے لوگ بھی اس معجزہ کے تو قائل تھے مگر وہ اس امر کے قائل نہ تھے کہ یہ معجزہ کسی اور کے لئے ظاہر ہوا ہے وہ اتنا تو سمجھتے تھے کہ دعائے ابراہیمی کے پورا ہونے کا یہ ایک ثبوت ہے مگر یہ کہ احترامِ محمدؐ ی میں ایسا ہو اہے اس کو وہ نہیں مانتے تھے۔اگر مانتے تو مسلمان کیوں نہ ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اے احمقو! تم اسے اب بھی نہیں مانتے۔حالانکہ ہم نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے یہ معجزہ دکھا دیا تھا اور جب ہم نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے اپنے معجزات ظاہر کرنے شروع کر دیئے تھے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم اب بھی اس کی زندگی کے آخری ایام تک اس کے لئے اپنے نشانات دکھاتے چلے جائیں گے۔رَبُّكَ میں رَبّ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور آپؐ کے کام سے اس نشان کا تعلق تھا اگر یہ معجزہ نہ دکھایا جاتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت صحیح طور پر نہ ہو سکتی اور نہ صحیح طور پر آپؐکا کام چل سکتا۔پس رَبّ کے لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تربیت اور آپؐکے کام کے صحیح