تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 292
تھی اور اسی نے مخالف حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کیا۔دعا ئے ابراہیمی میں صاف طور پر یہ الفاظ آتے ہیں کہ الٰہی تو میری اولاد میں سے ایک ایسا انسان مبعوث کر جو دنیا کو ہدایت دینے والا ہو اور ساتھ ہی یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خانۂ کعبہ کو محفوظ رکھے۔یہ دونوں دعائیں اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت کے ماتحت ایک ہی وقت میں پوری ہوتی ہیں۔محرم میں خانۂ کعبہ کو برباد کرنے والا دشمن اٹھتا ہے اور ربیع الاوّل میں وہ شخص پیدا ہو جاتا ہے جو کہتا ہے کہ میں دعائے ابراہیمی کا مصداق ہوں مگر ۲۲ سو سال تک نہ کسی نے خانۂ کعبہ پر حملہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ میں دعائے ابراہیمی کا مصداق ہوں۔کیا یہ سب کچھ اتفاق ہے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کو تم اتفاق کہہ لو مگر کیا ابرہہ کے حملہ کو بھی کوئی اتفاق کہہ سکتا ہے۔یقیناً اگر تعصب سے کام نہ لیا جائے تو نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کو اتفاق کہا جا سکتا ہے اور نہ ابرہہ کے حملہ کو اتفاق کہا جا سکتا ہے بلکہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے ازلی فیصلہ کے مطابق ہوا۔پیشگوئی کا پورا ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔حالات قطعی طور پر مخالف تھے اور کوئی انسان محض اپنی عقل سے قیاس کر کے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔مگر ناممکن حالات کو ممکن بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پورا کر دیا۔اگر اس دنیا میں ایسے نظارے نظر آسکتے ہیں تو کیا اس خدا کی بتائی ہوئی وہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہو سکتیں جو اگلے جہان سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا ممکن ہے تو اگلے جہان سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کا پورا ہونا کیوں ممکن نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہُـمَزَۃ اور لُمَزَۃ کے ساتھ اس سورۃ کو جوڑ کر اس اعتراض کو ردّ کیا ہے جو کفار کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ اگلے جہان کے متعلق جو خبریں دی گئی ہیں وہ ہم کس طرح مان لیں۔اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ دعائے ابراہیمی کون سی ممکن تھی۔اسماعیلؑ کا موت سےبچ جانا کون سا ممکن تھا۔خانۂ کعبہ کا بن جانا اور سارے عرب کی توجہ کا اس کی طرف پھر جانا کون سا ممکن تھا۔۲۸ سو سال کے بعد ایک جرار لشکر کے دل میں خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے اور اسے گرا دینے کا احساس پیدا ہونا کون سا ممکن تھا۔اس دشمن کا تباہ ہونا کون سا ممکن تھا اور پھر اس دشمن کی تباہی کے عین دو ماہ بعد اس شخص کا پیدا ہوجانا جس کی خاطر خانۂ کعبہ کو بسایا گیا تھا کون سا ممکن تھا۔اگر یہ ساری ناممکن باتیں ممکن ہو گئی ہیں تو اگلے جہان کی باتوں پر تم کیا اعتراض کرتے ہو۔جس خدا نے یہ باتیں پوری کی ہیں وہی اگلے جہان کی باتوں کو بھی پورا کردے گا۔غرض قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ وہ اس دنیا کی خبروں اور اگلے جہان کی خبروں کو ملا کر بیان کرتا ہے۔