تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 293
اسی طرح جزا و سزا اور تبشیر و انذار کی خبروں کو بھی ملا کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ قریب الفہم ہو جائیں مثلاً اگلے جہان کی دوزخ اور اگلے جہان کی جنت کی حقیقت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک وہ اس جہان سے تعلق رکھنے والی انذاری خبروں اور بشارتوں کو پورا ہوتے نہ دیکھ لے۔جب وہ اس جہان سے تعلق رکھنےو الی خبروں کو پورا ہوتے دیکھ لیتا ہے تو اس کے دل میں خود بخود یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ جب یہ ناممکن باتیں ممکن ہو گئی ہیں تو اگلے جہان سے تعلق رکھنے والی خبریں بھی ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) تفسیر۔بسم اللہ مضامین سورۃ کےلئے بطور کنجی کے بسم اللہ کی آیت تمام سورتوں میں مشترک ہے جو ہر سورۃ سے پہلے آتی ہے۔میری تحقیق کے مطابق بسم اللہ مضامین سورۃ کھولنے کی کنجی ہے اور اس میں ایسے گُر بتائے گئے ہیں جن سے اگلی سورۃ کے مضامین خود بخود کھل جاتے ہیں۔بڑی چیز جو بسم اللہ کے ذریعہ ظاہر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غیر معمولی ہوتی ہے مثلاً یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے عقیدہ کے لحاظ سے یعنی دنیا کے عقائد کچھ اور ہوتے ہیں اور قرآن کریم کوئی اور عقیدہ پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کہہ دیتی ہے کہ یہ غلط ہے۔یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے آئندہ واقعات کے لحاظ سے یعنی اس میںایسی پیشگوئی ہوتی ہے جو حیرت انگیز ہوتی ہے یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے پرانے اخبار کے لحاظ سے یعنی تاریخ کچھ اور کہتی ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ صحیح نہیں اصل واقعہ یوں ہے یا غیر معمولی ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ دنیوی قانونِ قدرت جو لوگوں نے سمجھ رکھا ہوتا ہے اس کے خلاف ہوتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہ بات سائنس کے خلاف کہہ دی ہے۔بہرحال کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات اس میں آجاتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہرسورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کو رکھا ہے یعنی میں اللہ کا نام لے کر شروع کرتا ہوں جو بغیر کسی محنت اور کوشش کے اور بغیر کسی استحقاق کے سامان مہیا کرتا ہے۔پھر وہ ایسا خدا ہے کہ جب کوئی شخص اس کے پیدا کردہ سامانوں سے کام لیتا ہے تو وہ اس کی کوشش کا بہتر سے بہتر بدلہ دیتا ہے۔جیسے دنیا میں بعض دفعہ بڑے آدمی کو گواہی کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر سورۃ سے پہلے اپنے آپ کو بطور گواہ پیش کیا ہے۔یہی دیکھ لو