تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 291

اس پڑاؤ نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسی قبیلہ کی ایک لڑکی سے شادی کرلی(تفسیر جامع البیان زیر آیت رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ۔۔۔۔)۔بھلا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس جنگل میں جہاں سینکڑوں میل تک آبادی نہ تھی کہاں سے بیوی لانی تھی۔خدا نے ہی یہ سامان کیا کہ وہاں جُرہم قبیلہ کا ایک گاؤں بسا دیا۔اس طرح ان کو بیوی بھی مل گئی اور ان کی اولاد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ آباد کیا تھا اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ مکہ کسی دن شہر بن جائے گا۔کون کہہ سکتا تھا کہ لوگ یہاں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گذاریں گے۔کون کہہ سکتا تھا کہ یہ شہر ہمیشہ محفوظ رہے گا اور اللہ اسے امن والا بنائے گا۔اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ تمام باتیں ناممکن تھیں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مکہ شہر بنے گا۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مکہ محفوظ رہے گا۔مگر اصحاب الفیل کے حملہ کے وقت وہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ مکہ ایک شہر بنے گا اور شہر بھی ایسا جو دشمن کے حملہ سے محفوظ رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کر کے دکھا دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ اصحاب الفیل کو اس وقت تک کس نے حملہ کرنے سے روکے رکھا تھا آخر کون سی طاقت تھی جو اس عرصۂ دراز میں مکہ کا محافظ رہی حضرت ابراہیم ؑ اور اصحاب الفیل کے واقعہ کے درمیان کوئی ۲۸ سو سال کا فرق تھا۔یا بعض روایتوں کے لحاظ سے ۲۲ سو سال کا فرق تھا۔دو ہزار دو سو یا دو ہزار آٹھ سو سال تک مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔دو ہزار دو سو سال تک مکہ کے گرانے کی خواہش کسی کے دل میں پیدا نہیں ہوتی۔دو ہزار دو سو سال تک خانۂ کعبہ کو منہدم کرنے کا جوش کسی کے دل میں پیدا نہیں ہوتا نہ کسی یہودی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے نہ کسی عیسائی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے نہ کسی اور حکومت کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔اس عرصہ میں ثمود کی حکومت آئی، عاد کی حکومت آئی۔یہ بڑی بڑی حکومتیں تھیں اور ان کی طاقت بہت زیادہ تھی مگر کسی کو یہ خیال پیدا نہ ہو اکہ وہ خانۂ کعبہ پر حملہ کرے لیکن ادھر ربیع الاوّل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوتے ہیں اور ادھر دو ماہ پہلے محرم میں ابرہہ حملہ کر دیتا ہے اور اس وقت خدا یہ نشان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابرہہ اور اس کے لشکر کو تباہ کر دیتا ہے۔اتنی مدت تک کسی کو خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے کا خیال نہ آنا اور اس وقت آنا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے بتاتا ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے اس وقت آخری حملہ تھا تاکہ پیشتر اس کے کہ اس انسان کا ظہور ہو جو دعائے ابراہیمی کے ماتحت پیدا ہونے والا تھا یہ جگہ ہی مٹا دی جائے۔اور ابراہیمی پیشگوئی کا دنیا میں ظہور نہ ہو۔بہرحال اس پیشگوئی کا پورا ہونا اور ایسے حالات میں پورا ہونا جو بالکل مخالف تھے اور ایسے وقت میں پورا ہونا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے بتاتا ہے کہ اس پیشگوئی کی ایک کڑی اللہ تعالیٰ کے تصرف میں