تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 25
کہ اس کی تِلّی پھٹ گئی ہے اور یہ کوئی نہ پوچھتا کہ اس غریب ہندوستانی کی تلّی پھاڑنے کا حق اسے کس نے دیا تھا اور وجہ کیا ہے کہ ہندوستانی جب بھی مرتا ہے تلّی پھٹنے سے مرتا ہے۔اس بات پر بھی کوئی غور نہ کرتا کہ آخر یہ کون سا اتفاق ہے کہ گورے صرف اسی ہندوستانی کومارتے ہیں جس کی تلّی بڑی ہو۔مگر الحمد للہ کہ اب ہندوستان آزادی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اور یہ معاملات گذشتہ قصہ بن گئے ہیں۔تجارتی ترقی کے لئے زبردست اقوام دوسری اقوام کی تجارت کو دباتی چلی جاتی ہیں۔کہیں ایکسچینج کے دھوکے سے، کہیں اس بنا پر کہ تمہارا فائدہ ہی اسی میں ہے کہ صنعت و حرفت نہ کرو اور زراعت کرو، کبھی اپنے ملکی جہاز بنانے کی اجازت نہ دے کر، کبھی نا جائز مدد اپنے ہم قوموں کو دے کر، کبھی تجارتی جتھے بنا کر، غرض ہر رنگ میں انصاف کو کچلا جا رہاہے۔علوم میں تغیر (۵)علوم تو اب ایسے بدلے ہیں کہ پرانے علوم کا کچھ باقی ہی نہیں رہا۔فلسفہ کی شکل سو فیصدی بدل چکی ہے۔سائنس۹۰ فیصد ی تبدیلی ہو چکی ہے۔پہلے تاریخ کی بنیاد روایات پر ہوا کرتی تھی اب روایات کوکوئی پوچھتا ہی نہیں۔اب تاریخ کی بنیاد یا اخبارات ہیں یا ڈائریاں یا خطوط ہیں اور پرانی تاریخ کے لئے آثار قدیمہ اوراتھنالوجی اور جیالوجی اور علم طبقات الارض کی تلاش کی جاتی ہے۔علم ہیئت قریباً بالکل بدل چکا ہے۔سورج اب سیدھا چلنے لگا ہے۔زمین گھومنے لگ گئی ہے۔نظامِ شمسی کی جگہ نظام ہائے شمسی نے لے لی اور نظام ہائے شمسی کی جگہ نظام ہائے نظام ہائے شمسی نے لے لی ہے۔دنیا کا پھیلائو پہلے کروڑوں میل بتایا جاتا تھا اب دنیا چھتیس۳۶ ہزار روشنی کے سالوں کے پھیلائو تک جا پہنچی ہے۔چھتیس ہزار روشنی کے سالوں کے معنے یہ ہیں کہ ۳۶ ہزار×۶۰×۶۰×۲۴×۳۶۰×ایک لاکھ چھیاسی ہزار اگر انسان صبح سے شام تک بھی ان اعداد کو گننے لگے اور ضرب درضرب شمار کرتا چلا جائے تو شام تک بھی ان اعداد کو ختم نہیں کر سکتا۔طب نے بھی حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر لی ہے۔جن باتوں کا پہلے وہم و گمان بھی نہ تھا اب روز مرّہ کا شغل بن گئی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے زمانہ میں بھی اپریشن ہوتے تھے مگر شاذو نادر کے طور پر کبھی بقراط کا نام اپریشن کے سلسلہ میں آجاتا اور کبھی کسی اور سرجن کا۔مگر اب ہر ملک اور ہر شہر میں وہ سرجن پائے جاتے ہیں جو پیٹ کو پھاڑتے اور پھر اسے سی دیتے ہیں گردوں کا اپریشن کرتے ہیں ناک، کان، آنکھ، حلق اور دوسرے اعضاء کے نقائص کا اپریشن کے ذریعہ علاج کرتے ہیں بلکہ اس جنگ میں تو اس حد تک حیرت انگیز ترقی کر لی گئی ہے کہ اس جنگ کے دوران میں دل کے اپریشن بھی کئے گئے ہیں دل کو کھرچا گیا ہے اور پھر اسے کھرچ کر اس کے اصل مقام پر رکھ دیا گیا ہے۔