تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 24
کرتے اور علی الاعلان کرتے ہیں۔ایک بڑے ملک کے عوام الناس کے اختیارات کے علمبر دار لیڈر کے پاس دس بارہ سال سے ایک عورت رہتی ہے وہ کہتے ہیں وطن کی خدمت کے جذبات کی وجہ سے میں شادی نہیں کر سکتا مگر اس عورت کو اپنے پاس رکھنے سے وطن کی خدمت میں کوئی حرج واقعہ نہیں ہوتا۔ہٹلر کے مرنے کے بعد پتہ لگا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک مسٹرس تھی اور اس سے دو بچے بھی تھے۔مرنے سے چند دن پہلے اس سے اس نے شادی کی تاکہ بچے اس کے وارث ہو سکیں۔(The New Encyclopedia Britanica Under word "wars") اب بھلا اس میں کیا لطف تھا کیوں نہ شادی ہی کر لی۔مسولینی نے بھی ایک مسٹرس رکھی ہوئی تھی اس کی بیوی نے اس کے مرنے پر کہا کہ وہ اچھا آدمی تھا۔کسی نے اس کی مسٹرس کا ذکر کیا تو کہا کہ اس چڑیل نے اس شریف آدمی کی عقل پر پردہ ڈال دیاتھا۔اس چڑیل سے جو سلوک لوگوں نے کیا اچھا کیا۔کنچنی کو عیب سمجھا جاتا ہے لیکن قہوہ خانوں میں شریف بن کر عورتوں کا عصمت فروشی کرنا ایک عام رواج ہے اور کوئی اسے برا نہیں سمجھتا۔ایک معروف بادشاہ کو ایک عورت سے محبت تھی۔اس کا خاوند موجود تھا وہ اکثر ان کے پاس آتی جاتی تھی۔اور لوگ جانتے تھے کہ وہ اس سے محبت کرتے ہیں خود ایسی دعوتوں میں بھی وہ عورت شریک ہوتی رہی جن میںگرجا کا سب سے بڑا بشپ بھی شامل ہوا لیکن اس نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جب بادشاہ نے اسے طلاق دلوا کر اپنے نکاح میں لانا چاہا تو تمام پادریوں نے شور مچادیا کہ دین کی سخت ہتک ہونے والی ہے۔یہ وہ عفّت ہے جسے پہلے زمانہ کے لوگ اور قدیم صداقتوں پر ایمان لانے والے سمجھ ہی نہیں سکتے۔انصاف کے اب کوئی معنے ہی نہیں رہے دنیا کا ۴/۳حصہ لوگوں نے غلام بنا رکھا ہے۔امریکہ جو آزادی کا علمبر دار ہے وہاں کے اصل باشندے ریڈانڈینز تھے جو اب صرف چند ہزار باقی رہ گئے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی پرانے باشندوں کی آبادی تھی مگر وہ بھی مرمرا کر ختم ہو گئے ہیں صرف چند افراد ان میں سے باقی ہیں جن کو وہاں ذلیل ترین اور بے وارث بنا دیا گیا ہے افریقہ کے حبشی بھوکے مرتے ہیں لیکن ان کی زمینیںاور جائیدادیں لاکھ لاکھ ایکٹر کی شکل میں انگلستان کے نو ابوں کو دے دی گئی ہیں۔ساؤتھ افریقہ کے سفید باشندے حبشیوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر کے ان کے ملک میں دند نار ہے ہیں اور وہاں کی کانوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر نام یہ ہے کہ ہم دنیا کو سویلائزڈ کر رہے ہیں۔ہم دنیا کو مہذہب بنانے کے لئے اپنے گھروں سے قربانی کر کے آگئے ہیں۔اب تو خیر ہندوستان کی حالت بدل رہی ہے۔آزادی اور حُریت کا سانس لوگ لینے لگے ہیں اور ملک اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے قربانی کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے۔مگر پہلے یہ حالت تھی کہ ایک گورا ہندوستانی کو ٹھوکروں سے مار دیتا تھا اور عدالت کہتی تھی