تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 279
جائے اور وہ حرکت تک نہ کر سکے۔اونچے ستونوں کے الفاظ اس لئے استعمال کئے گئے کہ عام طور پر سنگساری اور جلانے کے لئے کمر تک گڑی ہوئی لکڑی یا ستون سے باندھا کرتے تھے۔بڑے ستون کہہ کر بتایا کہ جسم کا اوپر کا حصہ بھی جکڑا ہو اہو گا۔فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ کے دو معنے دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ کو مُؤْصَدَۃٌ کی صفت قرار دیا جائے۔مُـمَدَّدَۃٌ کے معنی چونکہ مُطَوَّلَۃٌ کے ہیںاس لئے اس آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ بڑے بڑے لمبے ستونوں میںآگ جل رہی ہو گی یعنی جس بھٹی میں وہ جلائے جائیں گے وہ بہت بلند ہو گی اور لمبے ستونوں سے بنی ہوئی ہوگی۔یہ قاعدہ ہے کہ جتنی لمبی بھٹی ہوتی ہے اتنی آگ زیادہ تیز ہوتی ہے پس فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ میں ایک طرف تو اس آگ کی شدت بیان کی گئی ہے کہ وہ انتہا درجہ کی حدّت اپنے اندر رکھتی ہو گی اور دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ کفار کی حالت ایسی ہو گی جیسے ستونوں سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ بچنے کی بہت کوشش کریں گے مگر انہیں اپنے بچائو کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی۔چنانچہ آخر یہی حالت کفار مکہ کی ہو گئی جب ان کے اپنے بیٹے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو ان کی بات کون سنتا تھا۔اگر وہ ان سے کہتے بھی کہ تم ہم میں پھر واپس آجائو اور اپنا آبائی مذہب اختیارکر لو تو ان کی بات ماننے کے لئے کون تیار ہو سکتا تھا۔یہ ایمان کا معاملہ تھا اس میں کسی باپ یا ماں کا کیا دخل تھا اور کون شخص ان کی بات مان سکتا تھا۔غرض فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ ان کے لئے عذاب کی بھٹیاں بڑی بڑی اونچی بنائی جائیں گی اور یہ بھی کہ وہ با لکل بے کس اور بے بس ہو جائیں گے۔انہیں عذاب پہنچے گا مگر وہ سر سے پا تک بندھے ہوئے ہوں گے کچھ کر نہیں سکیں گے۔