تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 278
نالہ و فریاد سے ایک شور بر پا کرنا چاہتی تھیں مگر وہ کیا کر سکتے تھے قوم کا فیصلہ تھا کہ آج تمہارے لئے ماتم جائز نہیں۔تم اپنی زبانوں کو بند رکھو۔تم اپنے آنسوئوں کو مت گرنے دو ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں تک یہ خبریں پہنچیںتو وہ خوش ہوں کہ ہم نے خوب بدلہ لیا۔یہ حالت ایک لمبے عرصہ تک رہی۔عورتوں کو اپنے خاوندوں پر، مائوں کو اپنے بیٹوں پر، بھائیوں کو اپنے بھائیوں پر، اور دوستوں کو اپنے دوستوں پر رونے کی اجازت نہیں تھی۔ان کے سینے اس بند آگ کی تپش سے اندر ہی اندر جل رہے تھے مگر قوم کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ان میں سے کسی میں جرأت نہیں تھی۔ایک دن کسی مسافر کی اونٹنی مر گئی اور اس نے مکہ کی گلیوں میںسے گذرتے ہوئے اس کے غم میں ماتم کا قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا۔یہ آواز سن کر ایک بوڑھا شخص جس کے دو نوجوان بیٹے اس جنگ میں ہلاک ہو چکے تھے کود کر اپنے گھر میں سے باہر نکل آیا اور اس نے بلند آواز سے کہا ہائے افسوس اس شخص کو اپنی اونٹنی پر رونے کی اجازت ہے مگر مجھے جس کے دو نوجوان بیٹے جنگ میں مارے گئے ہیںرونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اس کا یہ کہنا تھا کہ یک دم تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں سے نکل آئے اور انہوں نے کہا ہم تو جل کر مر گئے ہیں۔ہم آگ سے پھنکے جا رہے ہیں ہم اب زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔چنانچہ انہوں نے چوکوں اور بازاروںمیں جمع ہو کر پیٹنا شروع کر دیا اور تمام مکہ میں ایک کہرام مچ گیا(سیرۃ ابن ھشام غزوہ بدر زیر عنوان ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب )۔غرض فرماتا ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ۔تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ آگ ان کے دلوں پر خوب بھڑکائی جائے گی اور پھر وہ آگ چاروں طرف سے بند ہو گی۔اس کے شعلے ان کی ایڑی سے لے کر چوٹی تک پہنچیں گے اور انہیں جھلس کر رکھ دیں گے۔فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۔یہ عَلَيْهِمْ کی ضمیر مجرور کا حال واقعہ ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ مُوْثَقِیْنَ فِیْ عَـمَدٍ مُّـمَدَّدَۃٍ کفار کا یہ حال ہو گا کہ جب آگ ان پر بھڑکائی جائے گی تو وہ بڑے بڑے اونچے ستونوں سے بندھے ہوئے ہوں گے۔جس طرح ستون سے اگر کسی شخص کو باندھ دیا جائے تو اس کا جسم اکڑا رہتا ہے اور باوجود کوشش کے وہ ادھر ادھر نہیں ہو سکتا اسی طرح فرماتا ہے ہم ان کفار کو ایسا عذاب دیں گے کہ وہ باوجود کوشش اور خواہش کے اس عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہیں پائیں گے چنانچہ یہ پیشگوئی اس رنگ میں پوری ہوئی کہ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے اپنے بیٹے، بھائی، دوست اور رشتہ دار سب مسلمان ہو گئے۔کوئی اور قوم ابتدا میں مسلمان ہوتی تو شاید ان کو اتنی تکلیف نہ ہوتی مگر جب ان کے اپنے جگر گوشے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تو یہ ان کے لئے ایسی ہی بات تھی جیسے کسی کو اونچے ستون سے باندھ دیا