تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 273

سے ہے اس کو جلانے کا کیا فائدہ ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعد میںدوبارہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی کوشش نہیں کی۔پس بندوں کی جلائی ہوئی آگ بجھ سکتی ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی جلائی ہوئی آگ سے سلامت نکال لیا لیکن خدا تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ میں سے کوئی شخص دوسرے کو نکال نہیں سکتا کیونکہ بسا اوقات دل میںآگ لگ رہی ہوتی ہے اور انسان کوشش بھی کرتا ہے کہ میں اس آگ سے نکلوں مگر وہ نکل نہیں سکتا۔چنانچہ اس آگ کی اللہ تعالیٰ نے خودہی آگے تشریح کردی ہے کہ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ ہماری یہ آگ دلوں پر بھڑکائی گئی ہے لکڑیوں کی آگ نہیں کہ پانی سے بجھ سکے یہ دل کی آگ ہے جس کے شعلے ان کو ہر وقت بھسم کررہے ہیں۔وہ مسلمانوں کی ترقی کو دیکھتے ہیں تو ان کے دل جلتے ہیں۔غم واندوہ سے کباب ہوتے جاتے ہیں۔حسرت و افسوس سے ان کی زندگیاں تلخ ہو رہی ہیں مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دکھ کا ہم کیا علاج کریں۔ابو جہل کا دوانصاری لڑکوں کے ہاتھوں قتل بدر کے موقع پر جب ابوجہل اپنے لشکر سمیت نکلا تو اس کو یہ خیال تک نہیں تھا کہ مسلمانوں سے ہماری جنگ ہونے والی ہے۔خود مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ صرف کفار کے تجارتی قافلہ سے ان کا مقابلہ ہوگا۔اسی وجہ سے بہت سے جاں نثار صحابہ ؓ اس جنگ میں شامل نہیں ہوسکے مگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے ماتحت کفار اور مسلمانوں کے لشکر کو آمنے سامنے لے آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کو بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ کفار سے جنگ کی جائے جب دونوں لشکر صف بستہ ہوگئے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنے دائیں بائیں دیکھا۔وہ کہتے ہیں میرے دل میں بڑی مدت سے یہ ولولے تھے کہ کبھی کفار سے جنگ ہو تو ان مظالم کا بدلہ لوں جو وہ مسلمانوں پر کرتے چلے آئے ہیں مگر سپاہی تبھی اچھا لڑ سکتاہے جب اس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو جو اس کی پیٹھ کو دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھے۔حضرت عبدالرحمٰن فرماتے ہیں جب میں نے یہ دیکھنے کے لئے اپنے اردگردنظر ڈالی کہ آج میرے دائیں بائیں کون کھڑے ہیں تو میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میرے دائیں طرف بھی پندرہ برس کا ایک انصاری لڑکا کھڑا تھا اور میرے بائیں طرف بھی پندرہ برس کا ایک انصاری لڑکا کھڑا تھا۔یہ دیکھ کر مجھے سخت حسرت پیدا ہوئی کہ آج میں اپنے دل کے حوصلے کس طرح نکالوں گا۔کاش میرے دائیں بائیں کوئی مضبوط اور ماہر فن سپاہی ہوتے تاکہ میں بھی اپنی مہارت کے جوہر دکھاسکتا۔ان پندرہ پندرہ برس کے بچوں نے کیا کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں ابھی یہ خیال میرے دل میں گذرا ہی تھا کہ دائیں طرف کے انصاری نوجوان نے میرے پہلو میں آہستہ سے کہنی ماری۔میں نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا چچا