تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 272
اسے قیامت پر چسپاں کیا ہے۔لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ سے مراد دنیا میں عذاب کا شکار ہونا ہے وہ کہتے ہیں کہ لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔مگر میرے نزدیک چونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے لئے دنیوی عذاب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوتے ہیں اور وہ بھی اپنی شدت کے لحاظ سے دوزخ کا عذاب کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔اس لئے حُطَمَۃ سے یہاں دنیا کی آگ مراد ہے اوراگر اس کے معنے توڑنے کے لئے جائیں تب بھی اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم ان کی شوکت کو بالکل توڑ پھوڑ دیں گے۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ۔قرآن کریم میں جہاں بھی مَاۤ اَدْرٰىكَ کے الفاظ آتے ہیں وہاں اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم نے اس مقام پر جو لفظ رکھا ہے وہ عربی زبان کے لحاظ سے کئی معنوں میں استعمال ہوسکتا ہے۔لیکن ہمارے نزدیک اس لفظ کے یہاں فلاں معنے ہیں۔علمِ طریق تو یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسا لفظ آجائے جو کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہو تو اس کے سارے معنے لئے جاسکتے ہیں۔لیکن جب خدا تعالیٰ کا یہ منشا نہ ہو کہ سارے معنے لئے جائیں بلکہ یہ منشا ہو کہ صرف فلاں معنے لئے جائیں تو اس وقت کہہ دیا جاتا ہے کہ مَاۤ اَدْرٰىكَ تجھے کس نے بتایا ہے کہ اس کے کیا معنے ہیں۔یعنی اس لفظ کے کئی معنے ہوسکتے ہیں لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اس مقا م پر ہمارے مدّ ِنظر کون سے معنے ہیں۔نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ۔فرماتا ہے یہاں حُطَمَۃ کے معنے اللہ تعالیٰ کی اس آگ کے ہیں جو خوب بھڑکائی گئی ہے۔آگ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک آگ وہ ہوتی ہے جسے بندے بھڑکاتے ہیں، وہ لکڑیاں جمع کرتے اور دیاسلائی سے آگ روشن کرتے ہیں اور ایک آگ وہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ جلاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک آگ تو اگلے جہان کی ہے جو دوزخ کی شکل میں ظاہر ہوگی اور ایک آگ ایسی ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ہی بھڑکایا جاتا ہے اور یہی وہ آگ ہے جسے عذاب کہا جاتا ہے۔پس نَارُ اللّٰهِ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار کے لئے اس دنیا میں مقدر تھا۔لکڑی کی آگ پر پانی ڈالو تو وہ بجھ جاتی ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے کفار نے خوب آگ بھڑکائی مگر اللہ تعالیٰ نے بادل بھیج دیئے۔ادھر آگ روشن ہوئی اور ادھر بارش برسنی شروع ہوگئی جس سے تمام آگ بجھ گئی۔آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ جانے دو آج بارش نے ہماری آگ بجھادی ہے پھر کسی وقت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈال دیں گے مگر کفر کا جوش چونکہ عارضی ہوتا ہے انہی میں سے کچھ لوگ بول پڑے کہ ابراہیم بھی تو ہمارے رشتہ داروں میں