تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 274
ذرا جھک کر اپنے کان میں میری بات سننا (عرب میں رواج تھا کہ بڑی عمر والوں کو چھوٹے بچے اور نوجوان چچا کہا کرتے تھے) میں نے اس کی طرف کان جھکایا تو اس نے کہا چچا وہ ابوجہل کون سا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا۔میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔وہ کہتے ہیں اس سوال پر میرے دل میں سخت حیرت پیدا ہوئی کہ یہ چھوٹاسا بچہ مجھ سے کیا سوال کررہا ہے۔مگر ابھی میں نے اس کوکوئی جواب نہیں دیا تھا کہ بائیں طرف سے میرے پہلو میں کہنی لگی۔میں اس کی طرف مڑا تو اس نے کہا چچا ذرا جھک کر اپنے کان میں میری بات تو سننا۔میں جھکا تو اس نے کہا چچا ابوجہل کون ہے۔میں نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دکھ دیا کرتا ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔ان دونوں نے آہستگی سے یہ بات اس لئے کہی کہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ میرا دوسرا ساتھی اس بات کو سن لے اور وہ بھی اس شرف میں حصہ دار بن جائے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓکہتے ہیں باوجود تجربہ کار اور ہوشیار جرنیل ہونے کے میرے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ میں ابوجہل کو مارسکوں گا۔اس لئے جب ان دو نوجوان لڑکوں نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔میں نے اپنی انگلی اٹھائی اور کہا دیکھو وہ جو فوج کے اندر کھڑا ہے جس نے سر پر خود پہنا ہوا ہے جو سر سے پائوں تک زرہ میں ملبوس ہے اور جس کے سامنے دو بہادر سپاہی ننگی تلواریں لئے پہرہ دے رہے ہیں وہ ابوجہل ہے۔ان دو سپاہیوں میں سے ایک ابوجہل کا اپنا بیٹا عکرمہ تھا اور دوسرا ایک اور بہادر سردار تھا۔وہ کہتے ہیں ابھی میرا ہاتھ نیچے نہیں گرا تھا کہ جس طرح باز چڑیا پر جھپٹا مارتا ہے اسی طرح وہ دونوں بے تحاشا دوڑ پڑے اور ایسی تیزی کے ساتھ دشمن کے لشکر میں جاگھسے کہ کفار حیرت سے منہ دیکھتے رہ گئے۔انہیں ہوش ہی نہ آیا کہ وہ ان لڑکوں کو روکیں یہاں تک کہ وہ بڑھتے ہوئے ابوجہل کے سر پر جا پہنچے۔اس وقت ایک محافظ کو خیال آیا اور اس نے تلوار چلائی جس سے ایک لڑکے کا ہاتھ کٹ گیا مگر اس نے کوئی پروا نہ کی اور جھٹ اپنے لٹکے ہوئے بازو پر اس نے پائوں رکھا اور اسے کھینچ کر جسم سے الگ کردیا۔پھر دونوں نے آگے بڑھ کر ابوجہل کو ایسا شدید زخمی کیا کہ وہ زمین پر گرگیا گو مرا کچھ دیر بعد۔ابو جہل کے لئے اس دنیا میں جہنم کا نظارہ غرض جنگ ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ مدینہ کے دو نوجوان لڑکوں نے جن کو مکہ والے حقارت سے ذلیل کیاکرتے تھے ابوجہل کو مارگرایا۔مدینہ کے لوگ سبزی ترکاری بیچ کر گذارہ کیا کرتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں بعض زمیندار اپنی بیوقوفی سے آرائیوں کو حقارت سے دیکھا کرتے ہیں اسی طرح مکہ والے مدینہ کے لوگوں کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ سبزی ترکاری بیچنے والے لڑائی کے فنون کو کیا جانیں۔مگر اللہ تعالیٰ کا نشان دیکھو کہ انہی مدینہ والوں میں سے دو نوجوان لڑکوں نے