تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 267
(۳) تعظیم کی صورت میں اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اَلَّذِیْ جَـمَعَ مَالًا کَثِیْـرًا۔جس نے بہت سا مال جمع کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں لاکھوں روپیہ بھی بالکل حقیر چیز ہے لیکن بندہ جب اپنی نگاہ سے اس مال کو دیکھتا ہے تو اسے بہت بڑا مال معلوم ہوتا ہے اگر کسی کے پاس ہزار روپے بھی جمع ہوجائیںتووہ خیال کرتا ہے کہ میرے پاس بہت روپیہ جمع ہوگیا ہے۔حالانکہ ہزار روپیہ موجودہ زمانہ میں کوئی حقیقت ہی نہیںرکھتا۔وہ مفسرین جنہوں نے ان آیات کو کفارمکہ پر چسپاں کیا ہے انہوں نے الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا کے ماتحت لکھا ہے کہ شریک کے پاس پندرہ ہزار درہم تھے جن کی وجہ سے وہ دوسروں پر فخر کا اظہار کیا کرتا تھا(بحر محیط سورۃ الھمزۃ زیر آیت الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ)۔پندرہ ہزار درہم آج کل کے حساب سے صرف پانچ ہزار روپے بنتے ہیںاور یہ روپیہ موجودہ زمانہ کی دولت کے لحاظ سے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔ہندوستان میں ہی اگر کسی کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بڑا مال دار ہے اس کے پاس پانچ ہزار روپے ہیں تو سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ کیسی احمقانہ بات کہی گئی ہے پانچ ہزار روپے بھی کوئی چیز ہیں۔مگر عرب میں یہ بہت بڑی دولت سمجھی جاتی تھی اور اگر کسی کے پاس اتنا روپیہ جمع ہو جاتا تو وہ خیال کیاکرتا تھا کہ اب مجھ سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے میرے پاس تو پانچ ہزار روپے جمع ہیں۔لیکن موجوہ زمانہ میں دنیا کی امارت کا یہ حال ہے کہ ہندو ستان کے اکثر حصے ایسے ہیں جہاںصر ف اسی شخص کو مالدار سمجھا جاتا ہے جس کے پاس دس پندرہ لاکھ روپے ہوں۔لیکن اگر بمبئی چلے جائو تو وہاں دس پندرہ لاکھ والے کو کوئی شخص مالدار کہنے کے لئے تیار نہیں ہوگا وہاں اسّی نوّے لاکھ یا ایک کروڑ روپیہ رکھنے والے کو مالدار کہا جاتا ہے۔اس کے بعد انگلستان چلے جائو تو وہاں ایک کروڑ روپیہ رکھنے والے کو کوئی شخص مالدار نہیں کہے گا وہاں دس پندرہ کروڑ رکھنے والے کو مالدار سمجھا جاتا ہے پھر امریکہ چلے جائو تو وہاں دس پندرہ کروڑ والے کو کوئی شخص مالدار نہیں کہتا وہاں ڈیڑھ دو کروڑ یا اس سے بھی زیادہ سالانہ انکم رکھنے والے کو مالدار سمجھا جاتا ہے۔غرض امارت کا معیار موجودہ زمانہ میں بہت بلند ہو گیا ہے۔لیکن عربوں کے لئے یہی بات بڑی تھی کہ ان میں سے کسی کے پاس پانچ چھ ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔پس جَمَعَ مَالًا میںتنوین تعظیم کی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس صورت میں یہ تعظیم اس انسان یا اس قوم کے نقطہ نگاہ سے ہو گی جس نے مال جمع کیا ہے اور آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے بڑا مال جمع کر لیا ہے۔بہر حال اس آیت کے تینوں معنے ہوسکتے ہیں۔یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ اس نے بہت سا مال جمع کیا ہے، یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ اس نےمعمولی سا مال جمع کیا ہے اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ اس نے گندہ اور ردی مال جمع کیا ہے۔عَدَّدَهٗ۔عَدَّدَ کے معنے جو اوپر بیان کئے گئے ہیںوہ سب کے سب ا س مقام پر چسپاں ہوتے ہیںچنانچہ