تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 268
دنیا میںجس قدر بخیل لوگ پائے جاتے ہیںان سب میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ روپیہ جمع کرتے ہیںاور پھر ہمیشہ گنتے رہتے ہیںکہ اب ہمارے پاس اتنے روپے ہو گئے ہیںاب ہزار روپیہ ہو گیا ہے، اب لاکھ روپیہ ہو گیا ہے، اب کروڑ روپیہ ہوگیا ہے۔انہیں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ اگر اس مال کو کسی نفع مند کام پر لگا یا جاتا یا بنی نوع انسان کی بھلائی کے کاموں پر صرف کیا جاتا تو کیسا اچھا ہوتا اور کتنے لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا۔پھر یہ بھی ایک عام مرض بخیل لوگوں میں ہوتا ہے کہ وہ روپیہ تو جمع کرتے ہیںمگر قومی ضروریات تو الگ رہیں اپنی ذاتی ضروریات پر بھی اس کو خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔بخیل کی بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ جب اس سے کہا جائے کہ تم روپیہ کیوں خرچ نہیں کرتے تو وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ تو کسی دن کے لئے رکھا ہوا ہے پہلے ہی اس کو کس طرح خرچ کر دوں۔مگر اس کی ساری عمر گذر جاتی ہے اور اس کا وہ دن کبھی نہیں آتا۔روپیہ غلق میں ہی بند رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔بعد میں اس کی اولاد شراب اور جوئے میں اس کے روپیہ کو برباد کر دیتی ہے یا کنچنیوںکے ناچ گانے میں سب جائدادلٹا دیتی ہے۔لیکن اس کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود بیمار ہو،اس کی بیوی بیمار ہو،اس کا بچہ بیمار ہو،اس کا بھائی بیمار ہو،اور اسے کہا جائے کہ علاج کرائو تو کہتا ہے یہ روپیہ تو کسی دن کے لئے رکھا ہوا ہے۔اسی طرح اس کی ساری عمر کٹ جاتی ہے۔وہ ننگا رہتا ہے،وہ بھوکا رہتا ہے،وہ بیمار رہتا ہے،وہ مصائب میں مبتلا رہتا ہے،اس کے بیوی بچے تکالیف اٹھاتے ہیںمگر اس کا وہ دن نہیں آتا جس کے لئے اس نے روپیہ جمع کیا ہوا ہوتا ہے۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیںکہ بجائے اس کے کہ وہ مال خرچ کرے اور پبلک کو روپیہ کے چکر سے فائدہ پہنچے وہ اپنے اس فعل کی خوبیاںبیان کرتا رہتا ہے اور دوسروں سے بھی یہی کہتا ہے کہ ہمیشہ روپیہ اپنے پاس رکھنا چاہیے اس کا یہ یہ فائدہ ہوتا ہے۔یعنی بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس فعل پر نادم اور شرمندہ ہو وہ فخر کرتا ہے اور دوسروں سے بھی یہی کہتا ہے کہ روپیہ کی انسان کو اپنی زندگی میں بڑی ضرورت پیش آتی ہے انسان کو چاہیے کہ وہ ذاتی یا قومی ضروریات کو نظر انداز کر دیا کرے گویا نادم اور شرمندہ ہونے کی بجائے وہ الٹا گناہ پر فخر کرتا ہے۔يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ۰۰۴ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس(کے نام) کو باقی رکھے گا تفسیر۔يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۔اس آیت میںیہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ روپیہ خرچ کرنے میں