تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 266
تفسیر۔عام محاورہ کے مطابق اس آیت میں جَـمَعَ الْمَالَ کے الفاظ ہونے چاہیے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے جَـمَعَ الْمَالَ کی بجائے جَـمَعَ مَالًا فرمایا ہے۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا ہے اور مَالًا کی تنوین اپنے اندر کیاحکمت رکھتی ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تنوین اپنے اندر تین حکمتیں رکھتی ہے۔اوّل۔یہ تنوین تحقیر کی بھی ہو سکتی ہے۔دوم۔یہ تنوین تقبیح کی بھی ہو سکتی ہے۔سوم۔یہ تنوین تعظیم کی بھی ہو سکتی ہے۔پہلی صورت میں الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا کے یہ معنے ہو ں گے کہ جس نے تھوڑا سا مال جمع کیا اور پھر اس پر فخر کرنے لگا۔یہاں تھوڑے مال کا یہ مفہوم نہیں کہ اس نے کم روپیہ جمع کیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال خواہ کسی نے ڈھیروں ڈھیر جمع کر لیا ہو بہر حال ایک فانی متاع ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی دین اور اس کے بدلہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں دنیا کے اموال کے متعلق یہ صرا حتاً فرمایا گیا ہے کہ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ (التوبۃ:۳۹) دنیا کی متاع آخرت کے مقابلہ میں نہایت قلیل چیز ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خواہ ساری دنیا کا مالک بن جائے بہرحال چالیس پچاس سال کے بعد مر جاتا ہے اور پھر اس لحاظ سے بھی متاع الحیٰوۃ قلیل ہے کہ انسان نے مر کر اگلے جہان جانا ہے اگر کسی انسان نے اس مقام پر اپنے لئے کوئی سرمایہ جمع نہیں کیا تو دنیا کے اموال اسے کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیںاور اگر کسی انسان نے اس جگہ اپنے لئے سرمایہ جمع کیا ہوا ہے تب بھی اس کے مقابلہ میںدنیا کا مال کوئی حقیقت نہیں رکھتا غرض کوئی نقطۂ نگاہ لے لو بہر حال دنیا کا متاع قلیل ہے۔پس جَمَعَ مَالًا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جَـمَعَ مَالًا قَلِیْلًا۔اس نے دنیا کی تھوڑی سی پونجی جمع کر لی اور پھر اس پر گھمنڈ شروع کر دیا کہ میں بڑا مال دار بن گیا ہوں۔(۲) تقبیح کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اَلَّذِیْ جَـمَعَ مَالًا حَرَامًا۔ایسا مال اس نے جمع کیا جو نہایت ردی اور خبیث تھا۔حالانکہ عقلمند انسان کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب اسے کوئی گندی چیز ملے تو اسے اٹھا کر پھینک دے نہ یہ کہ اسے حفاظت کے ساتھ اپنے گھر لے آئے۔اگر کسی کو کوئی کھوٹا سکہ مل جائے تو وہ اسے اٹھا کر اپنی جیب میں نہیں رکھ لیتا یا اسے نجاست سے لتھڑی ہوئی کوئی چیز مل جائے تو وہ اسے اپنے گھر میں نہیں لے آتا مگر ان لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ مال اپنے پاس رکھتے ہیں جو گندہ ہے اور جسے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے اکٹھا کیا گیا ہے حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ ایسا مال فوراََپھینک دیتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی اس کو اپنے پاس رکھنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔