تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 265
ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ۰۰۳ جو مال کو جمع کرتا اور اس کو شمار کرتا رہتا ہے۔حلّ لُغات۔عَدَّدَ۔عَدَّدَ الْمَالَ جَعَلَہٗ عُدَّۃً لِلدَّھْرِ یعنی جب عَدَّدَ الْمَالَ کہا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ اس نے مصیبت کے دنوں میںکام آنے کے لئے اپنا مال جمع کیا (اقرب) دنیا میں جب کوئی شخص اپنی ذاتی ضروریات کے لئے مثلا شادی بیاہ کے لئے یا بیماریوں اور مقدمات وغیرہ کے لئے کچھ روپیہ پس انداز کرتا ہے تو اس مال کو عُدَّۃ کہتے ہیںپس جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ کے معنے یہ ہوں گے کہ اس نے روپیہ جمع کیا اور پھر یہ خیال کیا کہ یہ روپیہ میری مصیبت کے وقت کام آئے گا یا دشمن کے حملوں سے میری حفاظت کا ذریعہ ثابت ہوگا یا اور ضروریات کو پورا کرنے کا موجب ہوگا۔پھر عَدَّدَ کے معنے گننے کے بھی ہوتے ہیںلیکن عام طور پر عربی زبان میں جب عَدَّدَ کا لفظ گننے کے لئے آئے تو متعدد چیزوں کے لئے آتا ہے(اقرب)۔مثلاً کہا جائے گا عَدَّدَ الدَّرَاھِمَ۔اس نے دراہم گنے کیونکہ دراہم متعدد ہوتے ہیں۔لیکن عَدَّدَ الْمَالَ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس نے اپنا مال کسی ضرورت کے لئے سنبھال کر رکھا۔گننے کے معنے اس میںنہیں پائے جائیں گے۔ہاں اگر مال کو کلیکٹوٹرم قرار دیا جائے یعنی ایسی چیز جو ہوتی تو ایک ہے مگر دلالت تعدد پر کرتی ہے تو اس لحاظ سے اس کے معنے گننے کے بھی ہوسکتے ہیںاور جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ سخت لالچی اور حریص ہے۔ایک طرف مال جمع کرتا ہے اور دوسری طرف اس کو ہمیشہ گنتا رہتا ہے کہ میرے پاس آج اتنا روپیہ جمع ہو گیا ہے کل اتنے روپے جمع ہو جائیں گے۔اسی طرح عَدَّدَ کا لفظ بعض دفعہ کسی چیز کے اوصاف بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ عربی میں کہتے ہیں عَدَّدَ الْمَیِّتَ اس نے میّت کو گنا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ عَدَّ مَنَاقِبَہٗ اس نے میّت کے مناقب بیان کئے(اقرب) اور کہا کہ وہ بڑا سخی تھا، بڑا بہادر تھا یا بڑا سمجھدار تھا۔چونکہ اخلاق کئی ہوتے ہیںاس لئے مختلف صفات اور عادات کے لحاظ سے بھی عَدَّدَ کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔اس صورت میں جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ مال جمع کرتا ہے اور پھر اس کی خوبیاں بیان کرنی شروع کر دیتا ہے کہ اگر مال کو روک کر رکھا جائے اور ان لوگوںکی تقلید نہ کی جائے جو ضروریات کے پیش آنے پر فوراً روپیہ خرچ کر دیا کرتے ہیںتو اس کے بڑے فوائد ہوتے ہیں۔اصل قرأت تو عَدَّدَهٗ ہی ہے لیکن بعض قراء نے اس کو عَدَدَهٗ بھی پڑھا ہے۔