تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 264
جائے گا۔(مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب باب تـحریم الغیبۃ ) اسلام نے غیبت کی ممانعت کے متعلق جو حکم دیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان دوسرے کے متعلق ایک رائے قائم کر تا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس رائے میں حق بجانب بھی سمجھتا ہے لیکن در حقیقت اس کی رائے صحیح نہیں ہوتی۔ہم نے بیسیوں دفعہ دیکھا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے متعلق ایک قطعی رائے قائم کر لیتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ میری رائے درست ہے لیکن ہوتی غلط ہے۔ایسی صورت میںاگر دوسرا شخص سامنے بیٹھا ہوگا اور اس کے متعلق کسی رائے کا اظہار کیا جائے گا تو لازماً وہ اپنی برأت کرے گا اور کہے گا کہ تمہیں میرے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے میرے اندر یہ نقص نہیں پایاجاتا۔پس خواہ کسی کے نزدیک کوئی بات سچی ہو جب وہ دوسرے شخص کی عدم موجودگی میں بیان کرتا ہے اور وہ بات ایسی ہے جس سے اس کے بھائی کی عزت کی تنقیص ہوتی ہے یا اس کے علم کی تنقیص ہوتی ہے یا اس کے رتبہ کی تنقیص ہوتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث کی رو سے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس طرح اس نے اپنے بھائی کو اپنی برأت پیش کرنے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔چونکہ یہ سورۃ گذشتہ ترتیب کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے متعلق ہے اس لئے اس سورۃ میں اس زمانہ کے کفار کا حال بتایا گیا ہے کہ ان کا رات دن یہ کام رہتا تھا کہ مسلمانوں کو مارتے ان کو مصائب اور تکالیف میںمبتلا کرتے اور ان پر قسم قسم کے مظالم توڑتے پھر اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی شیوہ تھا کہ وہ ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہتے یعنی صرف خود ہی ان کے دشمن نہیں تھے بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ دوسرے لوگ بھی ان کے دشمن بن جائیں۔آخر کسی کا عیب بیان کرنے کی کیا غرض ہوتی ہے یہی کہ دوسروں کو بھی برانگیختہ کیا جائے۔پس ھمز کے لحاظ سے تو ان کی یہ حالت تھی کہ وہ مسلمانوں کو مارتے اور ان کو مختلف قسم کے مصائب میں مبتلا کرتے۔لیکن لمز کے لحاظ سے وہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ باقی دنیا کو بھی مسلمانوں کا دشمن بنا دیں کفار کی ان شرمناک حرکات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام اشخاص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو دکھ دیتے اور دوسری طرف ان کے خلاف ہر وقت پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں اور اس طرح پبلک کو بھی اسلام کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیںانہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ایسا عذاب نازل ہونے والا ہے جس سے ان کے دلوں کا چین بالکل اڑ جائے گا اور ان کی امیدیں سب خاک میں مل جائیں گے۔