تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 263

میں فلاں فلاں خرابیاں پائی جا تی تھیں یا کوئی شریک تھا جو اس قسم کی عادات رکھتا تھا۔چنانچہ جب ہم اس سورۃ پر پہنچتے فوراً کہہ اٹھتے کہ ہمیں اس سے کیا غرض یہ ایک پرانا واقعہ بیان کیا جارہا ہے ہمیں اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں۔لیکن اب ہم ایسا نہیں کہہ سکتے۔اب ہر شخص مجبور ہے کہ ان آیات کو پڑھے اور مجبور ہے اس امر پر کہ وہ ہمزہ اور لمزہ نہ بنے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد نہ بن جائے۔پس خواہ یہ آیات مغیرہ کے متعلق ہوں یا عاص بن وائل کے متعلق یا شریک کے متعلق۔اللہ تعا لیٰ نے اس سورۃ میںشخصی بحث نہیں کی بلکہ فلسفیانہ بحث کی ہے اگر شخصی بحث کی جاتی تو یہ کلام متروک ہو جاتا لیکن فلسفیانہ بحث کی وجہ سے پہلے بھی یہ کلام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے، اب بھی پہنچا رہا ہے اور آئندہ بھی پہنچاتا رہے گا اور جس شخص میں بھی یہ باتیں پائی جائیں گی اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کروںایسا نہ ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جائوں۔بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ہر شخص جو دوسروں کو کچل کر آپ بڑا بننا چاہتا ہے یا دوسروں کی عیب چینی میں مشغول رہتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنی ان حرکات سے باز نہیں آئے گا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اس پر نازل ہو گا۔اس صورت میں لمز کے معنے تو عیب چینی کے ہوں گے۔ھمز کے معنے متکبر اور مغرور انسان کے ہوں گے کیونکہ مار پیٹ ہمیشہ مغرور انسان کا شیوہ ہوتا ہے اور اس کی غرض اس قسم کے ظالمانہ سلوک سے یہی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کو کچل دے اور اس پر اپنی طاقت کا اظہار کرے۔دوسری صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اپنی نعمتوں کو کھو بیٹھے گا اور سخت حسرت اور افسوس کرے گا۔ہر وہ شخص جو دوسروں کی غیبتیں کرتا ہے بلکہ غیبت پر ہی منحصر نہیںمنہ پر بھی دوسروں کے عیوب بیان کر دیتا ہے اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا کہ میں جھوٹ بھی بول رہا ہوںاور دوسرے کا دل بھی دکھا رہا ہوں۔غیبت کے متعلق بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اگر کسی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے تو وہ غیبت میں داخل نہیں ہوتا ہاں اگر جھوٹی بات بیان کی جائے تو وہ غیبت ہوتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیںغیبت کا اطلاق ہمیشہ ایسی سچی بات پر ہوتا ہے جو کسی دوسرے کو بدنام کرنے کے لئے اس کی غیر حاضری میں بیان کی جائے اگر جھوٹی بات بیان کی جائے گی تو وہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہوگا۔احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ غیبت تو بری چیز ہوئی اگر اپنے بھائی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے تو آیا یہ تو منع نہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کی عدم موجودگی میں اس کا سچا عیب بیان کرنا ہی غیبت ہے ورنہ اگر دوسرے کے متعلق جھوٹی بات بیان کی جائے تو یہ بہتان بن