تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 262

لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا نہ ہو کہ یہ بات میرے متعلق نہیں بلکہ کسی گذشتہ زمانہ کے لوگوں کے متعلق ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ ھمز اور لمزمیں مغیرہ،عاص بن وائل اور شریک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔چونکہ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہمیشہ ناجائز حرکات کیا کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے ذریعہ ان کو انتباہ فرما دیا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان پر عذاب نازل کردیا جائے گا۔مگر میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں کہ اس سورۃ کے وسیع مضمون کو اس طرح محدود کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر یہ سورۃ محض مغیرہ کے کسی فعل کی وجہ سے نازل ہوئی تھی یا صرف عاص بن وائل کو اس میں مخاطب کیا گیا تھا یا صرف شریک کا اس میںذکر تھاتو اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ وَیْـلٌ لِّــعَــاصِ بْـنِ وَائِلٍ یا وَیْلٌ لِّمُغِیْـرَۃَ یا وَیْلٌ لِّشَـرَیْکٍ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا بلکہ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کہا ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ کلام میں جب کسی خاص شخص کی تعیین کر دی جائے تومضمون نا مکمل ہو جاتا ہے مثلا اگر ہم کہیں وَیْلٌ لِّزَیْدٍ زید کے لئے ہلاکت ہے تو ہر شخص یہ دریا فت کرنے کی کوشش کرے گا کہ زید کیوں برا ہے یا اس میں کون سی خرابی پائی جاتی ہے کہ اس کے متعلق وَیْل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ تو ہر شخص کہے گا کہ یہ با کل درست ہے جو غیبت کرتا ہے یا جسے عیب چینی کی عادت ہے یا سچائیوں کا انکار کرتا ہے وہ ضرور برا ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو سزا ملے۔دوسرے قرآن کریم چونکہ ہر زمانہ کے لوگوں کی ہدایت کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے ایک مکمل دستور العمل قرار دیا ہے اس لئے اگر اس سورۃ میںکسی کا نام لے لیا جاتا تواس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔مثلا اگر یہ کہا جاتا کہ وَیْلٌ لِّعَاصِ بْنِ وَائِلٍ تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا تھا وہ مر گیا اس کی اولاد بھی مر گئی۔اولاد کی اولاد بھی مر گئی اور پھر اس اولاد کی اولاد بھی مر گئی۔بلکہ اس کی اولاد بعد میں مسلمان بھی ہو گئی اور اسلام کی خدمت میں اس نے اپنی عمر بسر کر دی۔اب ہمیں اس سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا کہ وَیْلٌ لِّعَاصِ بْنِ وَائِلٍ یا وَیْلٌ لِّمُغِیْـرَۃَ یا وَیْلٌ لِّشَـرَیْکٍ لیکن جب یہ کہا گیا کہ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ تو قیامت تک ہر شخص کو فا ئدہ پہنچ سکتاہے اور ہر شخص کوشش کرے گا کہ میں ھمزہ لمزہ نہ بنوں۔پس چونکہ قرآن کریم ایک دائمی شریعت ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگوں کی اصلاح کا سامان رکھا گیا ہے اس لئے قرآن کریم وہ الفاظ استعمال کرتا ہے جو قیامت تک کام آنے والے ہوںاور جن سے ہر زمانہ کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔پس اگر بعض اشخاص کے نام لے لئے جاتے تو اس کلام کا فائدہ اسی زمانہ میں ختم ہو جاتا اور ہمارے لئے یہ آیات محض ایک گذشتہ تا ریخ کا ورق بن جاتیں۔ہم سمجھتے کہ کوئی عاص بن وائل تھا جس پر عذاب آیا یا کوئی مغیرہ تھا جس