تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 261
مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔اس تدریج کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ میں ھمز کے معنے مارپیٹ کے لئے جائیں گےا ور لمز کے معنی عیب چینی کے ہوں گے یعنی وہ لوگ نہ صرف مارتے پیٹتے ہیں بلکہ یہاں تک ان کی نوبت پہنچ چکی ہے کہ جن امور کی صداقت ان پر واضح ہوچکی ہے ان کا بھی انکار کرتے ہیں یعنی وہ تمام حُسن جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ میں پایا جاتا ہے۔وہ تمام خوبیاں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام میں پیدا فرمائی ہیں اور وہ تمام بھلائیاں جو اسلامی تعلیم میںرکھی گئی ہیں۔ان میں سے ایک ایک حُسن اور ایک ایک خوبی اور ایک ایک بھلائی کا وہ بڑی سختی سے انکار کررہے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہؓ سچی باتیں کہتے ہیں تو ان کو جھوٹا قرار دیا جاتا ہے۔وہ انصاف قائم کرتے ہیں تو ان کو ظالم کہا جاتا ہے۔وہ امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو فسادی بتایا جاتا ہے۔غرض کوئی خوبی اور بھلائی ایسی نہیں جس کا کفار کی طرف سے انکار نہ کیا جارہا ہو اور یہ حالت یقیناً ایسی ہے جو پہلی حالت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ مارپیٹ میں تو صرف غصہ کا اظہار ہوتا ہے لیکن کسی سچائی کا انکار یا طعنہ زنی یا دوسروں کی تحقیر و تذلیل کا ارتکاب ایسے امور ہیں جو اخلاق اور روحانیت کے کلی فقدان پر دلالت کرتے ہیں اور جن کے اثرات بہت دیرپا ہوتے ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ تلوار کے زخم مندمل ہوجاتے ہیں مگر وہ زخم جو زبان کی چھری دوسروں کے قلب پر پید اکرتی ہے کبھی مندمل نہیں ہوتے۔غرض مارپیٹ کی نسبت طعنہ زنی اور تحقیر و تذلیل کے کلمات جو دوسروں کے متعلق استعمال کئے جائیں بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں۔پس ھمز کے معنے مارنے پیٹنے کے ہیں اور لمز کے معنے تحقیر و تذلیل اور سچائیوں کا انکار کرنے کے ہیں۔بظاہر مارپیٹ زیادہ سخت نظر آتی ہے لیکن علم النفس کے ماتحت مارپیٹ کم درجہ رکھتی ہے اور سچائی کا انکار زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ھمز کو پہلے رکھا اور لمز جس میں اخلاقی برائی زیادہ تھی اس کا بعدمیں بیان کیا۔لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یوں ہی ھمز کو پہلے رکھ دیا اور لمز کو بعد میں۔حالانکہ ھمز کو پہلے ہی رکھنا چاہیے تھا اور لمز کو بعد میں ہی رکھنا چاہیے تھا۔اگر لمز کو پہلے اور ھمز کو بعد میں رکھا جاتا تو کلام اپنی فصاحت کھو بیٹھتا۔یہ قرآن کریم کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے کہ اس نے جہاں بھی کسی لفظ کو استعمال کیا ہے موقع اور محل کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا ہے۔اگر اس لفظ کو ذرا بھی ادھر ادھر کردیا جائے تو بہت بڑا نقص واقع ہوجاتا ہے۔اس سورۃ میں گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔لیکن اس سے ایک عام قاعدہ کا بھی استنباط ہوتا ہے۔قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ وہ ایسے رنگ میں بات کرتا ہے کہ ہر زمانہ کے