تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 260

یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ وہ ایک من بوجھ بھی اٹھا سکتا ہے کیونکہ ایک من بوجھ دومن بوجھ میں شامل تھا۔اسی طرح کوئی سمجھدار انسان یہ نہیں کہے گا کہ فلاں شخص بڑا کام بھی کرسکتا ہے اور چھوٹابھی۔یا ایم اے پاس بھی ہے اور بی اے بھی۔ہاں یہ ضرور کہے گا کہ فلاں شخص بی اے پاس ہے بلکہ ایم اے بھی پاس ہے یا فلاں بات کی مقدرت رکھتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فلاں بات کے کرنے کی بھی اس میں اہلیت پائی جاتی ہے۔یا ادیب ہے بلکہ شاعر بھی ہے۔مگر پہلے بڑی بات بیان کی جائے اور پھر چھوٹی۔یہ فصیح کلام کے بالکل منافی ہوتاہے۔ا س نقطۂ نگاہ کے ماتحت اگر ھمز ولمز میں سے ایک کے معنے ہم غیبت کے کرلیں اور دوسرے کے معنے منہ پر عیب چینی کے کرلئے جائیں تو یہ بالکل درست ہوں گے کیونکہ ان معانی میں تدریج پائی جائے گی جو ہر فصیح کلام کی ایک ممتاز خوبی ہوتی ہے۔جو شخص غیبت کرنے کا عادی ہوتا ہے اس میں بہادری نہیں ہوتی۔کچھ نہ کچھ ڈر اس کی طبیعت میں پایا جاتا ہے۔گو عیب چینی کرنے کے لحاظ سے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں وہ شخص بھی گناہ کرتا ہے جو کسی کی پیٹھ پیچھے عیب چینی کرتا ہے اور وہ شخص بھی گناہ کرتا ہے جو کسی کے منہ پر اس کے عیوب بیان کرنے شروع کردیتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ وہ دونوں گناہ گار ہوتے ہیں پھر بھی ان میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔جس شخص میں بزدلی زیادہ ہوتی ہے وہ پیٹھ کے پیچھے عیب بیان کرتا ہے اور جو شخص شرارت میں بڑھ جاتا ہے وہ پیٹھ پیچھے بھی عیب چینی کرتاہے اور سامنے بھی کسی کا عیب بیان کرنے سے باز نہیں آتا۔اس لحاظ سے ھمز اور لمز دونوں کے معانی میں ایک تدریج پائی جائے گی۔ھمز سے وہ شخص مراد ہوگا جو غیبت کرتا ہے اور لمز سے وہ شخص مراد ہوگاجو غیبت ہی نہیں کرتا بلکہ منہ پر بھی گالیاں دینے لگ جا تا ہے۔دوسری صورت میں نے یہ بتائی تھی کہ کبھی اقسام کے لحاظ سے بھی کلام میںتدریج پائی جاتی ہے۔مگر اقسام سے میری مرادظاہری قسمیںنہیں بلکہ وہ قسمیںہیں جن کی علم ا لنفس پر بنیاد ہوتی ہے۔مثلاً مار پیٹ بظاہر اعتراض کرنے سے زیادہ سخت نظر آتی ہے لیکن دوسری طرف ہمیںیہ بھی نظر آتا ہے کہ بعض دفعہ غصہ میں آکر انسان مار تو بیٹھتا ہے اور دوسرے کو برا بھلا بھی کہہ دیتا ہے لیکن سچائی کا انکار کرنا اس کے لئے بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔اب بظاہر سچائی کا انکار کم نظر آتا ہے اور مارپیٹ زیادہ سخت چیز دکھائی دیتی ہے لیکن علم النفس کے ماتحت مارپیٹ کم درجہ رکھتی ہے اور سچائی کا انکار بڑی خطرناک چیز ہے۔مارنے کو تو مائیں بھی اپنے بچوں کو مارلیتی ہیں۔باپ بھی اپنے بچوں کو مارلیتے ہیں۔استاد بھی اپنے شاگردوں کو مارلیتے ہیں لیکن اگر انہی کو پوچھا جائے کہ بتائو تمہاری مارپیٹ زیادہ سخت ہے یا بچوں کا جھوٹ بولنا یا کسی اور برائی میں ان کا ملوث ہونا زیادہ خطرناک ہے؟ تو ہر شخص کہے گا کہ مارپیٹ اخلاقی خرابیوں کے