تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 22

افسوس ہے کہ ہمارے اخبار کی یہ پالیسی ہے کہ ہم اپنی خبر کی تردید نہیں کیا کرتے۔ایک دفعہ آپ کا لحاظ کر کے تردید کر دی اب دوسری بار تردید کریں تو اخبار کی سُبکی ہوتی ہے اس لئے معذوری ہے۔مارننگ پوسٹ وہاں کے بہت بڑے پرچوں میں سے تھا کنسر ویٹو پارٹی سے تعلق تھا۔سرا ڈوائر غالباً اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔ان کے تعلقات چونکہ مجھ سے تھے اس لئے غالباً ان کے اشارہ پر یہ اخبار ہمارے معاملات میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔یہ اخبار بھی اب بند ہو کر ڈیلی ٹیلی گراف میں مدغم ہو گیا ہے۔اس سے پہلے اس کا نامہ نگار جس دن ہم نے لنڈن پہنچنا تھا سٹیشن پر موجود تھا مگر اتفاقاً گاڑی لیٹ ہو گئی اور کئی گھنٹے دیر سے پہنچنے کی اطلاع سٹیشن پر کی گئی۔جو لوگ استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے وہ واپس چلے گئے اور ان کو بتا دیا گیا کہ ریلوے کی خبر ہے کہ گاڑی اتنے گھنٹے لیٹ ہے۔لیکن اتفاق یہ ہوا کہ گاڑی دوسرے اندازہ سے کچھ وقت پہلے پہنچ گئی۔نیّر صاحب نے اخباروں کے نمائندوں کو خبر دینے کی کوشش کی۔کچھ اخباروں کو خبر دے سکے اور کچھ کے دفاتر سے کنکشن نہ مل سکا۔مارننگ پوسٹ کو بھی اطلاع نہ ہوئی دوسرے دن سب اخباروں میں ہماری خبر چھپی لیکن مارننگ پوسٹ میں نہ چھپی۔نیّر صاحب نے ان سے شکایت کی تو جواب دیا کہ ہمارے پرچہ کا اصول ہے کہ دوسرے پرچہ سے خبر نقل نہیں کیا کرتے۔انہوں نے کہا اب میں بتا رہا ہوں اب خبر چھاپ دیں جواب ملا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ مارننگ پوسٹ میں دوسرے اخباروں کی نسبت خبر ایک دن لیٹ چھپی ہے۔بات آئی گئی ہوئی جب مذہبی کانفرنس ہوئی اور اس میں میرے لیکچر کا بھی اعلان ہوا تو مارننگ پوسٹ نے نہایت شاندار طور پر اعلان کیا کہ ’’ امام جماعت احمدیہ کا لنڈن میں ورود‘‘ اور ساتھ فوٹو بھی شائع کیا۔پڑھنے والوں نے سمجھا ہو گا کہ شاید امام جماعت احمدیہ کہیں چلے گئے ہوںگے اور اب پھر لنڈن واپس آئے ہیں۔بہر حال مہینہ کے بعد ہمیں دوبارہ لنڈن وارد کر دیا گیا محض اس لئے کہ لوگوں پر یہ اثر قائم رہے کہ مارننگ پوسٹ ہمیشہ تازہ واقعات پیش کیا کرتا ہے۔یہ حالات ایسے درد ناک ہیں کہ حیرت آتی ہے کہ اب صداقت کا مفہوم کیا ہو گیا ہے۔درحقیقت اس زمانہ میں پراپیگنڈا کو اوّل او ر صداقت کو دوسرا نمبر دے دیا گیا ہے جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔امانت کایہ حال ہے کہ جنگِ عالمگیر اوّل میں کئی حکومتیں دوسری حکومتوں کا وہ سونا جو ان کے پاس امانت رکھا گیا تھا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھا گئیں۔دنیا میں اس وقت یہ عجیب نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک گورنمنٹ جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبر دار قرار دیتی ہے جو حُریت اور آزادی کے بلند بانگ دعاوی کرتے ہوئے نہیں تھکتی دوسرے ملک میں جاتی اور صرف چند سال کے لئے کوئی علاقہ یا شہر ٹھیکے پرلیتی ہے مگر رفتہ رفتہ اس علاقے یا شہر پر مستقل قبضہ