تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 23

جمالیا جاتا ہے اور اس کو واپس کرنے کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ہندوستان میں برار اس کی مثال ہے سوسال کے ٹھیکے پر حیدر آباد دکن سے برار لیا گیا تھا لیکن سو سال کی بجائے سوا سو سال گذرنے کو آئے ہیں اور اس کے واپس کرنے کا نام تک نہیںلیا جاتا۔نظام نے جب اس کی واپسی کا مطالبہ کیا تو اسے کہا گیا کہ یا تو برار کی واپسی کا دعویٰ کرو اور تخت سے اتر جائو یا تخت پر قائم رہو اور برار کا ذکر چھوڑ دو۔مرتا کیا نہ کرتا وہ خاموش ہو گیا۔آخر پچھلی جنگ میں نظام کی عظیم الشان جنگی خدمات کودیکھتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ ہم برار آپ کو واپس کرتے ہیں اس کے بدلہ میں آپ ہماری طرف یہ لکھ دیں کہ میں برار کو انتظام کی خاطر ہمیشہ کے لئے حکومتِ انگلشیہ کو دیتاہوں اور ہم مزید یہ رعایت کریں گے کہ عثمانیہ ولی عہد آئندہ شہزادۂ برار کہلائے گا۔کس قدر تمسخر انگیز تجویز ہے۔حید رآباد کا شہزادہ حیدرآباد کا شہزادہ کہلائے تو اس کی عزت نہیں ہوتی شہزادہ برار کہلائے تو اس کی عزت ہوتی ہے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔اِسی طرح اس قسم کے قبضوں کی مثال چین کے مختلف بندر گاہ ہیں۔مصر بھی ایک مثال ہے۔عراق، شام اور فلسطین بھی اس کی مثال ہیں۔عراق، شام اور فلسطین کے لوگوں نے ترکوں سے بغاوت کی اور ان سے یہ معاہدہ کیا گیا کہ ہم اس کے بدلہ میں تم کو آزاد کر دیں گے مگر اب ان کی طرف سے آزادی کا نام لیا جاتا ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ آزادہی ہیں ہم تو یہاں آپ کی خدمت کے لئے بیٹھے ہیں ہمارے بیٹھنے کی وجہ سے آپ کو یہ نہیں سمجھناچاہیے کہ آپ آزاد نہیں ہیں۔اِسی طرح سینکڑوں ملک ہیں جو عارضی طور پر لئے گئے اور پھر ان پر مستقل طور پر قبضہ کر لیا گیا۔اب ایران میں بھی ایسا ہی جھگڑا شروع ہورہا ہے جنگ کے خاتمہ کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر اسے خالی کرنے کے اعلان کئے گئے تھے مگر اب روس وہاں کے تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کی فکر میں ہے اور وہاں کے لوگوں میںبغاوت پھیلائی جا رہی ہے چنانچہ آئے دن ان علاقوں میں بغاوت ہو رہی ہے اور روسی اخباروں میں یہ شائع کرایا جا رہا ہے کہ ایران میں بڑا ظلم ہو رہا ہے اور وہاں حُریتِ ضمیر کو بری طرح کچلا جا رہا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد کہا جائے گا کہ کسی ذاتی غرض کے لئے نہیں بلکہ محض انسانیت کی حفاظت کے لئے روس اپنے اوپر یہ کمر توڑ دینے والا بوجھ اٹھانے لگا ہے کہ ایران کے اس حصہ کو اپنے قبضہ میں کرتا ہے۔بلغاریہ اور رومانیہ کا بھی یہی حال ہونے والا ہے۔گویا جو عیب افراد کو ذلیل کر دیا کرتا تھا اب حکومتوں کو اس پر فخر ہے۔عِفّت۔عفّت کا اب کوئی مفہوم ہی نہیں رہا۔زمانہ سابق میں عفّت شکن چوری چھپے سب کام کیا کرتا تھا۔اب علی الاعلان ہوتا ہے مسٹرس کا رکھنا ایک عام بات ہے اور ملک کے چوٹی کے افراد اور بڑے بڑے فلسفی یہ کام