تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 253
(۶)اسی طرح حَقّ کے ایک معنے موت کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے یہ معنے ہیں کہ مومن خود بھی موت کو خوشی سے قبول کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ڈرو نہیں اپنی جان اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قربان کر دو۔گویا مومن جماعت قربانی اور ایثار کی مجسمہ ہوتی ہے اور موت کا ڈر اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی نہیں ہوتا۔وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیاں ہماری کامیابی کے متعلق موجود ہیں اگر ہم زندہ رہے تو فاتح ہوں گے اور اگر مرگئے تو اگلے جہاں میں آرام سے زندگی بسر کریں گے۔دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔زندگی میں بھی فائدہ ہے اور موت میں بھی فائدہ ہے۔زندہ رہے تو کامیابی یقینی ہے اور اگر مرگئے تواگلے جہاں میں ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے وارث ہوں گے۔اس یقین کی وجہ سے جو دلیری مومنوں میں پائی جاتی ہے اس کاعشر عشیر بھی کسی اور قوم میں نہیں ہوتا۔جب بدر کے میدان میں کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے مقابل میں پہنچ گئے تو کفار نے ایک شخص کو یہ پتہ لگانے کے لئے بھیجاکہ مسلمان کتنے ہیں اور ان کے سازوسامان کاکیا حال ہے۔معلوم ہوتا ہے وہ آدمی نہایت ہوشیار تھا کیونکہ واپس جاکر اس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو سوا تین سو کے قریب ہیں اور یہ بات بالکل ٹھیک تھی کیونکہ مسلمان تین سو تیرہ تھے۔مگر اس نے کہا اے میرے بھائیو! میرا مشورہ یہ ہے کہ تم لڑائی کا خیال بالکل چھوڑ دو کیونکہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کو سوار دیکھا ہے (السیرۃ ابن ھشام ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب )۔یعنی ان میں سے ہر شخص کے چہرہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج اس نیت اور ارادہ کے ساتھ آیا ہے کہ میں زندہ واپس نہیں جائوں گا۔اور جو قوم اس نیت اور ارادہ کے ساتھ میدان میں آئے اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔یہی تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے معنے ہیں کہ مومن نڈر اور بہادر ہوتے ہیں وہ موت سے نہیں ڈرتے بلکہ خوشی سے اس کو قبول کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم موت سے مت ڈرو گویا تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں مومنوں کے ایمان اور یقین کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہیں صداقت پر اتنا کامل یقین ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ موت کو برا سمجھیں اسے اپنے لئے خوشخبری سمجھتے ہیں اور نہ صرف خود موت کے لئے تیار رہتے ہیں بلکہ اپنے ساتھیوں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر تم کامیابی چاہتے ہو تو موت کے لئے تیار رہا کرو۔پھر فرماتا ہے وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ مومنوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود بھی صبر کرتے اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔صبر کے معنے یہ ہیں کہ ان کے اندر مظالم کو برداشت کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔اسی طرح صبر کے ایک معنے استقلال کے بھی ہیں گویا مومنوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی سچائی کو قبول کرتے ہیں تو اس کے بعد انہیں اس بات کی کچھ پروا نہیںہوتی کہ دشمن انہیں مصائب میں مبتلا کرتا ہے یا ان پر