تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 254

عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ بڑی ہمت کے ساتھ تمام مشکلات کوبرداشت کرتے ہیں اسی طرح نیکیوں پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔یعنی استقلال کا مادہ ان میں پایا جاتا ہے اور وہ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیںکہ تمہیں اپنے اندر استقلال اور مصائب کو برداشت کرنے کا مادہ پید اکرناچاہیے۔ان آیات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مومن کا مذہب قومی مذہب ہوتا ہے اس کی نیک خواہشات صرف اپنی ذات تک محدود نہیںہوتیں بلکہ تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہوتی ہیں۔وہ ایک عالمگیر مواخات کا زبردست حامی ہوتا ہے اور تمام چھوٹوں اور بڑوں کو ایک سلسلہ میں منسلک کرنا چاہتا ہے۔وہ یہ نہیں چاہتا کہ صرف میں نیک بنوں بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ میرا ساتھی بھی نیک ہو اور دنیا میں صلح اور آشتی کی بنیاد ایسی مضبوط ہو کہ کوئی زلزلہ اس کو جنبش میں نہ لاسکے۔یہی باتیں ہیں جو دنیا میں قوموں کو ہلاکت سے بچایا کرتی ہیں۔جس قوم کے افراد میں یہ باتیں پائی جائیں اس قوم کو کوئی ہلاک نہیں کرسکتاخواہ اس کے دس افرا دہوں، سو ہوں، ہزار ہوں، دس ہزار ہوں وہ بہرحال غالب آتی اور دنیا میں قائم رہتی ہے۔پس فرماتا ہے وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ہم زمانہ نبوت کو یا دَہر کو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ کو اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ چونکہ یہ تین صفتیں مومنوں کے اندر پائی جائیں گی اس لئے وہ یقیناً جیت جائیں گے اور چونکہ یہ تین صفتیں ان کے دشمنوں کے اندر نہیں پائی جائیں گی اس لئے وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ضرور ہاریں گے۔