تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 252
مایوس کن جواب ملا ہے جو ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ آج مسلمانوں کے دلوں میں اپنے مذہب کی سچائی پر کوئی یقین نہیں وہ محض رسمی رنگ میں اسلام سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں ورنہ ان کے دل کے اندرونی گوشے یقین اور وثوق سے بالکل خالی ہیں۔ایک بہت بڑے آدمی جو اس وقت ہندوستان میں چوٹی کے علمی مقام پر ہیں ان سے میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکیوں مانتے ہیں؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں مانتا ہوں۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اب مسلمانوں میں محض رسمی ایمان رہ گیا ہے اور وہ مذہب پر غور کرنے کے عادی نہیں رہے۔اسی وجہ سے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا میں ماموریت کا اعلان فرمایا تو مسلمان آپ پر اعتراض کرنے لگ گئے ہیں کیونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خیالی وجود کو مان رہے تھے۔حقیقت ان کی نظروں سے پوشیدہ تھی۔پس تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے معنے یہ ہیں کہ نبی کوماننے والے خود بھی یقین پر قائم ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی رسمی ایمان کے دائرہ سے نکال کر حقیقی ایمان کے دائرہ میں لانے کی کوشش کرتے ہیںاور چونکہ ان کو عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر بات کو سوچ سمجھ کر مانیں اندھی تقلید اختیار نہ کریں اس لئے وہ ہربات کی حکمت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نماز پڑھتے ہیں تو سمجھ کر پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں تو سمجھ کر رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو سمجھ کر کرتے ہیں، چندہ دیتے ہیں تو سمجھ کر دیتے ہیں، صدقہ و خیرات میں حصہ لیتے ہیں تو سمجھ کر لیتے ہیں۔اسی وجہ سے ان کے کاموں میں بشاشت پائی جاتی ہے اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ ان کے کاموں کی بنیاد یقین پر ہوتی ہے تخمینہ اور قیاس پر نہیں ہوتی۔(۵) حَقّ کے ایک معنے حزم اور احتیاط کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے یہ معنے ہیں کہ مومن حزم پر قائم ہوتے اور دوسروں کو بھی اس پر قائم کرتے ہیں۔یہ خوبی بھی نبی پر ایمان لانے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے باقی تمام اقوام تہوّر کا شکا ر Desperate ہوکر اپنی طاقت کو بالکل کھو بیٹھتی ہیں لیکن نبی پر ایمان لانے والوں کے سامنے ایک بلند مقصد ہوتا ہے۔دین کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ان میں سے ایک ایک فرد پر عائد ہوتی ہے اور چونکہ وہ ایک بہت بڑی امانت کے حامل ہوتے ہیں۔اس لئے وہ اونچ نیچ کو دیکھتے ہوئے سنبھل سنبھل کر اپنے قدم بڑھاتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ وہ گر پڑیں اور جس جھنڈے کو انہوں نے فتح و کامرانی کے ساتھ دشمن کے مقام پر گاڑنا ہے وہ سرنگوں ہوجائے۔لیکن دوسری قومیں صرف اتنا جانتی ہیں کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم مر جائیں یا ماردیں۔اس وجہ سے وہ اندھا دھند حملہ کرتی اور اپنی طاقت کو ضائع کردیتی ہیں۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مومن اپنے ہر کام میں حزم و احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہمیشہ محتاط راہ پر چلنے کی تاکید کرتے ہیں۔