تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 246
۲)وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ(۳)وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میںتین قسم کے لوگوں کا ہی استثنیٰ کیا ہے۔فرماتا ہے وہ لوگ جن میں یہ تین خاصیتیں پائی جائیں گی یعنی ان کے اندر ایمان بھی ہوگا ان کے اندر عمل صالح بھی ہوگا اور وہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ پر بھی عمل کرنے والے ہوں گے وہ خُسْـر سے محفوظ رہیں گے۔گویا خُسْـر کے بھی تین ہی معنے تھے اور اس کے بالمقابل استثنیٰ بھی تین قسم کے لوگوںکا ہی کیا گیا ہے اور اس طرح ایک ایک بات کا رد ایک ایک بات میں کر دیا گیا ہے۔یعنی ایک قسم کا خُسْـر ایک بات سے،دوسری قسم کا خُسْـر دوسری بات سے،اور تیسری قسم کا خُسْـر تیسری بات سے رد کر دیا ہے۔یہ بناوٹ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن کریم لغت کے معا نی کو پوری طرح ملحوظ رکھتا ہے۔کیونکہ خُسْـر کے بھی تین معنے تھے اور اس کے مقابل میں بھی تین باتیں ہی پیش کی گئی ہیں۔خُسْـر کے پہلے معنے گمراہی اور ضلالت کے ہیںاس کے مقابل میں اللہ تعالیٰ نے اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کو رکھا۔یہ بتانے کے لیے کہ اس وقت صرف مومنوں کی جماعت گمراہی سے محفوظ ہوگی کیونکہ وہ وقت کے مامور پر ایمان لانے والی ہوگی اور سب لوگ گمراہ اور صداقت سے دور ہوں گے۔پس گمراہی کے معنوں کو اٰمَنُوْا نے رد کر دیا۔دوسرے معنے خُسْـر کے گھاٹے کے ہیں۔اس کو رد کرنے اور لوگوںکو یہ بتانے کے لیے کہ گھاٹے سے بھی صرف مومنوں کی جماعت محفوظ ہوگی اللہ تعالیٰ نے عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے الفاظ رکھ دئیے۔گھاٹا آخر کیوں ہوتا ہے اسی لیے کہ انسان مناسب حال اعمال نہیں کرتا۔اگر کوئی تاجر وقت پر کسی چیز کو خریدے گا نہیں۔وقت پرکسی چیز کو بیچے گا نہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ اس کو اپنی تجارت میں خسارہ ہوگالیکن اگر وہ عمل صا لح اختیار کرے گا یعنی ایسے اعمال بجا لائے گا جو تجارت کے مناسب حال ہوںتو وہ گھا ٹے سے بچ جائے گا۔پس مناسب حال اعمال انسان کو گھاٹے سے محفوظ رکھتے ہیں۔چونکہ مومن مناسب حال اعمال بجا لائیں گے اس لئے وہ گھاٹے سے بھی محفوظ رہیں گے۔خُسْـر کے تیسرے معنے ہلاکت اور بربادی کے ہیںاس کے مقابل اللہ تعالیٰ نے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ رکھ دیا کہ مومن نہ صرف گمراہی سے محفوظ ہوں گے نہ صرف گھاٹے سے محفوظ ہوں گے بلکہ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی سے بھی محفوظ ہوں گے۔یہ صاف بات ہے کہ دنیا میں جب کوئی نئی صداقت آتی ہے لوگوں میں اس کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے اور اکثر لوگ اس کو مٹانے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔اور جب کسی اقلیت کو اکثریت کی مخالفت کا سامناہو۔حکومت اس کی مخالف ہو جائے، رعایا اس کی دشمن ہوجائے، تاجر اس کو مٹانے پر کمر بستہ ہو جائیں،صناع اس کی ہلاکت کے درپے ہو جائیں۔اسی طرح عالم کیا اور جاہل کیا، بڑے کیا اور چھوٹے کیا سب کے سب اس ارادہ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں کہ ہم اس کو کچل دیں گے تو